لاہور ہائیکورٹ:خاتون کو مستقل نمبردار مقرر کرنے کا حکم
خواتین کو عوامی عہدوں میں برابر مواقع فراہم کرنا آئینی تقاضا :جسٹس راحیل کامران ڈپٹی کمشنر لودھراں ، بورڈ آف ریونیو کا خاتون کو نمبردار مقرر نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم
لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے خاتون کو مستقل نمبردار مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس راحیل کامران شیخ نے قرار دیا کہ خواتین کو عوامی عہدوں میں برابر مواقع فراہم کرنا آئینی تقاضا ہے ، قابل خواتین کو سماجی تعصب کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔لاہور ہائیکورٹ کے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ میں برادری کی بنیاد پر خاتون امیدوار کے نمبر کم کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لودھراں ، بورڈ آف ریونیو کا خاتون کو نمبردار مقرر نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت کے فیصلے کے مطابق تحصیل دنیاپور ضلع لودھراں میں مستقل نمبردار کے انتقال کے بعد عہدہ خالی ہوا۔
جس پر درخواست گزار کلثوم اختر نے درخواست جمع کرائی۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ اسے برادری کی بنیاد پر زیرو نمبر دے کر میرٹ سے باہر کیا گیا۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کے والد بھی اسی گاؤں کے مستقل نمبردار رہ چکے تھے ، عدالت نے قرار دیا کہ اگر والد نمبردار رہ سکتے تھے تو بیٹی کو برادری کی بنیاد پر نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا،نمبردار کی تقرری کسی کا پیدائشی حق نہیں بلکہ ایک عوامی ذمہ داری ہے اور انتظامی اختیارات کو من مانے انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ مزید کہا گیا کہ بورڈ آف ریونیو قانونی تضادات اور میرٹ کا درست جائزہ لینے میں ناکام رہا۔عدالت نے محمد اعظم کی بطور مستقل نمبردار تقرری کالعدم قرار دیتے ہوئے کلثوم اختر کو مستقل نمبردار مقرر کرنے کا حکم دے دیا اور متعلقہ ریونیو حکام کو 30 روز میں تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کر دی۔