تیل ریفائنریز پیداوار میں یومیہ 30لاکھ بیرل کمی،1 سال میں بحالی
آبنائے ہرمز کی بحالی کے باوجود عمان 4 ہفتے ، امارات 3ماہ میں پیداوار معمول پر آنے کی توقع
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) ایران اور امریکہ جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں تیل ریفائنریوں کی پیداوار میں بڑی کمی سامنے آئی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے باوجود طے کی توانائی منڈیاں فوری طور پر معمول پر آنے کے امکانات کم ہیں۔ عالمی توانائی ڈیٹا اور مارکیٹ انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے مطابق ریفائنری سیکٹر کو مکمل بحالی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور بعض خلیجی ممالک کو طویل رکاوٹوں کا سامنا رہے گا۔رپورٹ کے مطابق اپریل میں مشرقِ وسطیٰ کی ریفائنریوں کی یومیہ پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 لاکھ بیرل کم ہو کر 60 لاکھ بیرل رہ گئی۔ اس کمی کی بڑی وجوہات میں برآمدی رکاوٹیں، ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت، انشورنس مسائل اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان شامل ہے ۔کیپلر نے مختلف خلیجی ممالک کی بحالی کی رفتار اور نقصانات کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق عمان سب سے تیزی سے بحال ہونے والا ملک ہوگا، جہاں صرف دو سے چار ہفتوں میں صورتحال معمول پر آنے کی توقع ہے کیونکہ وہاں نقصان کم ہوا ہے ۔
اس کے علاوہ عمان کا آبنائے ہرمز پر انحصار بھی کم ہے ۔ رپورٹ میں عمان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں بحالی کی راہ میں صرف خام مال اور سپلائی لاجسٹکس کا مسئلہ درپیش ہے جس کے باعث عمان نسبتاً تیزی سے معمول پر آ سکتا ہے ۔متحدہ عرب امارات کو بحالی میں دو سے تین ماہ لگیں گے ۔ امارات کی ریفائنریوں کو نقصان کم پہنچا ہے لیکن امارات کا آبنائے ہرمز پر انحصار زیادہ ہے ۔ امارات کے لیے سب سے بڑا چیلنج برآمدی راستوں میں رکاوٹیں اور شپنگ سے متعلق مسائل قرار دئیے گئے ہیں۔عراق کو بحالی کے لیے تین سے چار ماہ درکار ہو سکتے ہیں۔ عراق کی ریفائنریوں کو بھی نقصان کم پہنچا ہے اور آبنائے ہرمز پر انحصار بھی امارات کے مقابلے میں کم ہے لیکن عراق کو خام تیل کی برآمدات اور ٹرمینل آپریشنز کی بحالی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔کیپلر نے سعودی عرب کی بحالی کو پورے خطے کے لیے اہم اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی ریفائنریوں اور برآمدی راستوں کی مرمت میں چار سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی ریفائنریوں کو امارات، عراق اور عمان کے مقابلے میں زیادہ نقصان پہنچا ہے ۔
سعودی عرب کا آبنائے ہرمز پر انحصار بھی درمیانہ ہے لیکن ریفائنریوں کی مرمت اور متبادل برآمدی راستوں کی بحالی سب سے بڑا مسئلہ ہے ، جس کے باعث مکمل بحالی میں زیادہ وقت درکار ہے ۔دوسری جانب کویت، بحرین اور قطر کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا رہے گا۔ قطر کی مکمل بحالی میں ایک سال تک لگ سکتا ہے کیونکہ راس لفان اور پرل جی ٹی ایل تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ اس کے علاوہ قطر کا آبنائے ہرمز پر انحصار بھی بہت زیادہ ہے ، اس لیے قطر کو بحالی کے لیے ایک سال کا وقت درکار ہوگا۔کویت کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کی بحالی میں چار سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں کیونکہ کویت کی ریفائنریوں کو پہنچنے والا نقصان زیادہ ہے اور آبنائے ہرمز پر انحصار بھی زیادہ ہے ۔ بحرین کی بحالی کے لیے پانچ سے سات ماہ درکار ہیں کیونکہ بحرین کو انفراسٹرکچر اور سپلائی چین کے مسائل کا سامنا ہے ۔ایران کے بارے میں کیپلر نے کہا ہے کہ وہاں بحالی کا عمل غیر ہموار اور تدریجی ہوگا کیونکہ ریفائنری اور پیٹروکیمیکل انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا اگرچہ مثبت پیش رفت ہے ، تاہم خلیجی توانائی منڈیوں کو مکمل استحکام حاصل کرنے میں ابھی کافی وقت درکار ہوگا۔