کوکین کوئین پنکی کی پنجاب منتقلی کی تیاریاں، پولیس ٹیمیں تشکیل
لاہور میں بھائیوں کیخلاف مقدمے میں پنکی نامزد،گرفتار نہ ہوئی، ناقص تفتیش پر افسروں کیخلاف کارروائی مریم کے حکم پر سی سی ڈی تفتیش کررہی،تفتیشی افسر ریٹائر ،ملزمہ فنگر پرنٹس تیزاب سے مٹا چکی:ذرائع
لاہور(کرائم رپورٹر)کراچی میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے خلاف تحقیقات میں لاہور میں پیشرفت ہوئی ہے ، ملزمہ کی پنجاب منتقلی کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کے مطابق ملزمہ کے ایک بھائی ناصر کیخلاف 2020 میں اقبال ٹاؤن میں مقدمہ درج ہوا تھا جبکہ دوسرے بھائی ریاض کیخلاف 2022 میں کوٹ لکھپت میں مقدمہ درج ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مقدمات میں بھائیوں کے ساتھ ملزمہ انمول عرف پنکی بھی نامزد ہے ، دونوں مقدمات میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری نہیں ہوئی۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق نامزد ملزمہ کی گرفتاری کے لیے متعلقہ عدالت سے اجازت بھی طلب کی جارہی ہے ۔ انمول عرف پنکی کی عدم گرفتاری پر متعلقہ تفتیشی افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقدمے کے تفتیشی افسر نزاکت نے پنکی کو گرفتار نہیں کیا تھا، صفحہ مثل کے چالان میں انمول عرف پنکی کو اشتہاری بھی نہیں کیا گیا، چالان میں پنکی کی گرفتاری التوا میں رکھ کرگرفتار ملزم ریاض کوبری کروادیاگیا تھا، پنکی کے بھائی ریاض سے برآمد ہونے والی منشیات کا فرانزک بھی نہیں کروایاگیا۔ ذرائع کے مطابق پنکی کیخلاف مقدمے کا تفتیشی افسر نزاکت ریٹائر ہوچکا ہے ، لیگل افسران کی رائے کے بعد کیس کی تفتیش دوبارہ کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق مئی 2024 میں پولیس نے منشیات فروش جارڈن گینگ کو پکڑا تھا، گرفتار جارڈن گینگ کے کارندوں کی نشاندہی پر پنکی کو بھی حراست میں لیا گیا۔
حراست کے دوران ملزمہ پنکی نے سابق پولیس انسپکٹر سے تعلقات بنائے ، زیرحراست پنکی نے سابق پولیس انسپکٹر کو بھاری رشوت دی جس پر اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق ملزمہ نے بعد میں منشیات فروشی کے لیے اپنا نیٹ ورک بنا لیا، پنکی اپنے مبینہ شوہر سابق پولیس انسپکٹر کی مدد سے گرفتاری سے بچتی رہی۔ملزمہ اپنے بھائی ریاض بلوچ اور دیگر ساتھیوں کی مدد سے منشیات سپلائی کرتی تھی، ریکارڈ سے بچنے کے لیے مبینہ طور پر اپنے فنگر پرنٹس تیزاب سے مٹا چکی ہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب نے پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق اعلیٰ پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔وزیر اعلیٰ کے حکم پر انویسٹی گیشن اور سی سی ڈی نے اس کیس پر تفتیش شروع کر دی ۔