چین عالمی قوتوں کے ساتھ ملکر آگے بڑھنا چاہتا

چین عالمی قوتوں کے ساتھ ملکر آگے بڑھنا چاہتا

ٹرمپ کا استقبالی تقریب صدر شی کیساتھ ہونے کو اعزاز قرار دینا بڑی پیشرفت

(تجزیہ:سلمان غنی)

امریکی صدر شی پنگ کی جانب سے امریکا چین تعلقات کو دوطرفہ تعلقات کیلئے اہم قرار دینے کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ ملکر چلنے کے عزم سے عالمی امن علاقائی استحکام اور خصوصاً جنگ و جارحیت کی بجائے معاشی و تجارتی ترقی کے ضمن میں اہم قرار دیا جاسکتا ہے اور ظاہر ہوتا ہے کہ چین کسی کیلئے چیلنج بننے کی بجائے عالمی قوتوں کے ساتھ ملکر آگے بڑھنا چاہتا ہے ۔ یعنی اس کے مقاصد معاشی ہیں اور وہ معاشی بنیاد پر ہی آگے بڑھنا اور چلنا چاہتا ہے اور امریکا کے ساتھ چلنے کے حوالے سے بھی پرعزم ہے اور چینی صدر کے جواب میں امریکی صدر ٹرمپ کا اپنے یہاں استقبال کی تقریب کے ساتھ ان کے ساتھ ہونے کو اعزاز قرار  دینے کو ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے اثرات کی عالمی امن کے ساتھ علاقائی استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں اور دنیا کی دو بڑی طاقتوں کی جانب سے مل جل کر چلنے کا عزم دنیا کیلئے اصل پیغام کیا ہے اور دونوں ممالک کی ایک ساتھ ترقی کا عمل دنیا میں ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے اور سب سے اہم یہ کہ صدر ٹرمپ کے دورہ بیجنگ کے نتیجہ میں امریکا ایران جنگ بندی کے ساتھ مسائل کا حل نکل سکتا ہے جہاں تک چینی صدر شی پنگ کے امریکا کے حوالے سے اچھے جذبات و احساسات کا تعلق ہے تو چین کی پرامن ترقی باہمی احترام مساوی فوائد اور باہم مفادات پر مشتمل خارجہ پالیسی کے اصولوں کو ظاہر کرتا ہے یہ عالمی چیلنجز خصوصاً موسمیاتی تبدیلی اور معاشی استحکام جیسے معاملات پر تعاون کی خواہش کا عکاس ہوتاہے چینی صدر کا یہ پیغام ظاہر کرتا ہے کہ بیجنگ مکمل تصادم نہیں چاہتا بلکہ مقابلہ مگر ٹکراؤ نہیں کی پالیسی کا آئینہ دار ہے اس لئے کہ چینی معیشت اس وقت سست روی برآمدات پر دباؤ اور سرمایہ کاری کا چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے ۔

امریکا بھی اتنا ہی اہم ہے اس لئے چین پیغام دیتا ہے کہ عالمی تجارت اور سپلائی چین کو مکمل طور پر منقطع کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ البتہ یوکرین جنگ مشرق وسطی ٰ کی کشیدگی اور ایشیا میں طاقت کے توازن کے مسائل کے انحصار سے دوچار کررکھا ہے اور اس میں چین خودکو ایک ذمہ دار عالمی قوت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے ۔ جو تنازعات کی بجائے استحکام کا علمبردار ہے جبکہ خود صدر ٹرمپ اگر سخت پالیسی کا اظہار کرتے ہیں تو چین نرم سفارتی ماحول بارے پرعزم ہے تاکہ تجارتی جنگ یا عسکری کشیدگی میں اضافہ نہ ہو اور پاکستان جیسے ملک کیلئے یہ صورتحال اہم ہے کہ اگر چین اور امریکا میں کشیدگی کم ہوئی ہے تو اس سے عالمی معیشت میں استحکام آ سکتا ہے ۔

خطے میں پراکسیز کا دباؤ کم ہوگا اور پاکستان کو دونوں طاقتوں کے درمیان توازن میں آسانی ہوگی ۔تائیوان کا ایشو بھی اس دورہ کا اہم پہلو ہوگا۔ چونکہ چین تائیوان بارے حساس ہے جبکہ امریکا تائیوان کی دفاعی صلاحیتوں کا حامی رہا ہے ۔ اگر صدر ٹرمپ معاشی فوائدکے بدلے تائیوان پر لچک دے دیں تو جاپان کوریا جیسے اتحادی ناراض ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا صدر ٹرمپ کا دورہ چین بہت سے حوالوں سے اہم ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس دورہ میں صدر ٹرمپ کی اصل توجہ ایران جنگ کے خاتمہ پر ہوگی۔ امریکا چاہتا ہے کہ چین ایران پر اپنا دباؤ و اثرورسوخ استعمال کرے تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ ہوسکے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں