بجٹ:بجلی ،گیس کے نرخوں میں اضافے کا فیصلہ:ایف بی آر کو اضافی ساڑھے 1800 ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف آئی ایم ایف کی نئی شرائط آگئیں

بجٹ:بجلی ،گیس  کے  نرخوں  میں  اضافے  کا  فیصلہ:ایف  بی  آر  کو  اضافی  ساڑھے 1800  ارب  روپے  اکٹھے  کرنے  کا  ہدف  آئی  ایم  ایف  کی  نئی  شرائط  آگئیں

گیس ٹیرف جولائی 2026 ، فروری 2027 ، بجلی نرخ جنوری 2027 میں تبدیل ،بجٹ میں 430 ارب روپے نئے ٹیکسز اور انفورسمنٹ سے جمع،نان فائلرز کیلئے مزید سختیاں تیار 1400 ارب گروتھ ریٹ مہنگائی کی شرح بڑھنے سے حاصل ، ایف بی آر کی کم وصولیاں خطرہ قرار،آئی ایم ایف کی شرائط 5درجن سے زائد،نیب کو مزید خودمختار،شفاف بنا نیکا مطالبہ

 اسلام آباد(مدثر علی رانا،مانیٹرنگ ڈیسک)آئی ایم ایف اور حکومت کے بجٹ پر مذاکرات جاری ہیں ،حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو کروائی گئی یقین دہانی کے تحت بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے ،آئی ایم ایف نے نئی شرائط پیش کر دی ہیں ،آئندہ مالی سال ایف بی آر کو رواں مالی سال کی نسبت تقریباً ساڑھے 18 سو ارب روپے اضافی اکٹھے کرنا ہوں گے ۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف اور حکومت کے بجٹ مذاکرات میں توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور آئندہ مالی اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، حکومت نے آئی ایم ایف کو آ گاہ کیاہے کہ بجلی اور گیس نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا ،پروٹیکٹڈ صارفین کو رعایت حاصل رہے گی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیپرا کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس اور ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹس بروقت نافذ رہیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ  صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار رکھی ہے ،پٹرول، بجلی اور گیس ٹیرف میں باقاعدہ ردوبدل کے ذریعے لاگت کی مکمل وصولی جاری ہے جبکہ کمزور اور کم آمدن طبقے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی جاری رکھی جائے گی ، گیس ٹیرف میں جولائی 2026 اور فروری 2027 میں تبدیلی ہوگی، بجلی کے نرخ جنوری 2027 میں بروقت تبدیل کیے جائیں گے ۔مجموعی طور پر آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط 5 درجن سے تجاوز کر گئی ہیں،آئندہ وفاقی بجٹ میں نان فائلرز کیلئے بڑی مالی ٹرانزیکشنز محدود کرنے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے ، 430 ارب روپے نئے ٹیکسز اور انفورسمنٹ کے ذریعے اکٹھے کیے جائیں گے جبکہ 1400 ارب روپے سے زائد گروتھ ریٹ اور مہنگائی کی شرح بڑھنے سے اضافی اکٹھے ہو سکیں گے ۔ مجموعی طور پر آئندہ مالی سال کیلئے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے ۔ ڈائریکٹ ٹیکسز کی مد میں 7 ہزار 413 ارب روپے ، 1043 ارب ایف ای ڈی کا ہدف مقرر کیا جا سکتا ہے ۔ سیلز ٹیکس کی مد میں 4727 ارب روپے اور 1651 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی کا ہدف مقرر کیا جا سکتا ہے ۔

آئندہ مالی سال پٹرولیم لیوی کی مد میں 1727 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے ۔ نان ٹیکس آمدن کی مد میں 2768 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ آئندہ مالی سال کے دوران 7824 ارب روپے سود ادائیگیوں پر خرچ کیے جانے کا تخمینہ ہے ، 6652 ارب روپے مقامی قرضوں اور 1107 ارب بیرونی قرضوں پر سود ادائیگیوں کیلئے خرچ ہوں گے ۔ آئندہ مالی سال کے دوران 2665 ارب روپے دفاع کیلئے مختص کیے جانے کا تخمینہ ہے ، آئندہ مالی سال 986 ارب روپے پی ایس ڈی پی پروگرام کے تحت خرچ کرنے کا تخمینہ ہے ۔ آئندہ مالی سال کیلئے 4943 ارب روپے قرض حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ آئی ایم ایف شرط کے مطابق جی ڈی پی کا 2 فیصد پرائمری بیلنس سرپلس دینا ہو گا۔ آئی ایم ایف نے کنٹری رپورٹ میں آئندہ مالی سال 2026-27 کیلئے بجٹ تخمینے لگائے ہیں۔ کنٹری رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے ایف بی آر ٹیکس وصولیوں میں مسلسل کمی اور محدود ٹیکس بیس کو بڑا خطرہ قرار دیا۔ آئی ایم ایف نے ایف بی آر ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے اصلاحات تیز کرنے پر زور دے دیا، ڈیجیٹل انوائسنگ مرحلہ وار لازمی اور پیداواری نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنانے کیلئے ہدایات دیں۔ ایف بی آر میں نیا آڈٹ مینوئل اور آڈٹ پالیسی اگست 2026 تک متوقع ہے ۔ آئی ایم ایف نے نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں لانے اور ریٹیلرز کی ٹیکس رجسٹریشن سکیم مزید سخت کرنے کی تجویز دی۔

حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں نان فائلرز کیلئے بڑی مالی ٹرانزیکشنز محدود کرنے کے اقدامات کرے گی۔ زرعی شعبہ جی ڈی پی میں 24اعشاریہ 6 فیصد حصہ ڈالنے کے باوجود صرف صفر اعشاریہ 3 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے ۔ 2025 میں زرعی انکم ٹیکس بڑھایا گیا مگر وصولیاں توقعات سے کم رہیں۔ آئی ایم ایف سے ٹیکسٹائل، رئیل اسٹیٹ اور بزنس سروسز بھی کم ٹیکس دینے والے شعبے قرار دئیے گئے ۔ آئی ایم ایف رپورٹ میں حکومتی ریونیو کا بڑا انحصار پٹرولیم مصنوعات ٹیکسز پر ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ پاکستان میں صرف ایک چوتھائی ممکنہ جی ایس ٹی بیس پر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ، صوبائی سطح پر الگ الگ جی ایس ٹی نظام سے پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔ جی ایس ٹی کارکردگی 35 فیصد تک لانے سے 2اعشاریہ 1 کھرب روپے اضافی ریونیو اکٹھا ہو سکتا ہے ۔ آئی ایم ایف کی جانب سے ریٹیلرز کی رجسٹریشن سخت بنا کر سیلز ٹیکس نیٹ بڑھانے پر زور دیا گیا ہے ۔ مختلف شعبوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ اب بھی جی ڈی پی کے 1اعشاریہ 2 فیصد کے برابر ہے ۔ آئی ایم ایف نے صوبوں کو زرعی ٹیکس نفاذ کیلئے ایف بی آر ڈیٹا استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ آئی ایم ایف صوبوں کو ٹیکس اصلاحات کیلئے تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے ۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو ریونیو بڑھانے اور ٹیکس چوری روکنے کیلئے کئی یقین دہانیاں کرائی ہیں۔ شوگر، سیمنٹ، تمباکو اور کھاد سیکٹر میں 160 ارب روپے کی ٹیکس چوری یا گیپ ہے ۔

شوگر، سیمنٹ، تمباکو اور کھاد شعبوں میں نگرانی کا نظام نافذ ہے ، آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی بڑھانے کیلئے نیا نظام لا رہا ہے ۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق بڑے ٹیکس چوروں کی نشاندہی سی آر ایم سسٹم سے کی جائے گی۔ ایف بی آر نے 431 نئے آڈیٹرز بھرتی کر لیے ، مزید 396 جون تک آئیں گے ۔ سخت آڈٹ نظام سے 2027 میں 92 ارب روپے اضافی آمدن متوقع ہے ۔ تمام سیلز ٹیکس دہندگان کیلئے ڈیجیٹل انوائسنگ لازمی کر دی گئی ہے ۔ ڈیجیٹل انوائسنگ سے 46 ارب روپے اضافی ریونیو متوقع ہے ۔ ٹیکس چوری روکنے کیلئے ٹیکسٹائل سمیت مختلف شعبوں کی پیداوار مانیٹر ہوگی۔ ٹیکسٹائل اور بیوریجز سیکٹر اکتوبر 2026 تک مکمل نگرانی میں آئیں گے ۔ ایف بی آر آڈٹ نظام کو عالمی معیار کے مطابق مزید سخت کرے گا۔ ہائی رسک ٹیکس کیسز کی مرکزی سطح پر نگرانی کی جائے گی۔ ٹیکس اصلاحات کیلئے درمیانی مدت کی نئی حکمت عملی دسمبر 2026 تک تیار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان مالیاتی استحکام کیلئے سخت بجٹ پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ آئندہ مالی سال مزید صفر اعشاریہ 6 فیصد جی ڈی پی کے برابر ٹیکس اقدامات متوقع ہیں۔ ایف بی آر اصلاحات اور ٹیکس چھوٹ ختم کرنے سے ریونیو بڑھانے کا منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ دسمبر 2026 سے ایف بی آر ریونیو ہدف بطور سہ ماہی شرط مقرر کیے جانے کی تجویز ہے ۔ آئی ایم ایف کی صوبوں کو زرعی آمدن پر زیادہ ٹیکس اور سروسز جی ایس ٹی بیس بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

حکومت کا آئندہ مالی سال میں اخراجات محدود رکھنے مگر صحت و تعلیم بجٹ بڑھانے کا اعلان ہے ۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر ہدفی کیش ٹرانسفر پروگرامز کیلئے فنڈز میں اضافے کا امکان ہے ۔ ریونیو اہداف پورے نہ ہونے پر ترقیاتی اخراجات میں مزید کٹوتی ہوسکتی ہے ۔ فنڈ نے مشرق وسطیٰ جنگ کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کیلئے ہنگامی فنڈ مختص کرنے کی تجویز دی ہے اور تقریباً سوا 4 سو ارب روپے اس ضمن میں مختص کیے جانے کا تخمینہ ہے ۔ آئی ایم ایف کی سودی ادائیگیوں میں ممکنہ بچت کو مالیاتی بفر بنانے کیلئے محفوظ رکھنے کی سفارش کی ہے ۔ پاکستان کو قرضوں میں کمی کیلئے آئندہ سال مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہوگا۔ آئی ایم ایف کی پاکستان کیلئے قرض پروگرام کی قسط کے بعد جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آ رہا ہے ۔ مشرق وسطیٰ جنگ کے باوجود پاکستان نے معاشی اہداف حاصل کیے ، مشرق وسطیٰ کے تنازع سے پاکستان کی معاشی ترقی متاثر ہوئی۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے پاکستان میں سپلائی چین اور قوت خرید کو متاثر کیا، مشرق وسطٰی کی جنگ سے پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ کاروباری اور پیداواری شعبے کی وسعت کیلئے مسابقت کو فروغ دینا ہوگا۔ مسابقت سے کاروباری اور پیداوار شعبہ ترقی کرے گا، معاشی اصلاحات کے ذریعے پاکستان طویل مدت معاشی گروتھ حاصل کرسکتا ہے ۔ مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3اعشاریہ 6 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔

رواں مالی سال ایف بی آر بجٹ میں منظور 14 ہزار 131 ارب روپے ہدف کی نسبت 13 ہزار 428 ارب روپے اکٹھے کر سکے گا، اوریجنل ہدف کی نسبت ایف بی آر کا ریونیو شارٹ فال 700 ارب روپے سے زائد رہ سکتا ہے ۔ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 7اعشاریہ 2 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے ۔ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 17اعشاریہ 5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے ۔ رواں مالی سال پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 6اعشاریہ 9 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ رواں مالی سال قرض معیشت کا 73اعشاریہ 8 فیصد رہ سکتا ہے ۔ افراط زر کنٹرول کرنے کیلئے سٹیٹ بینک نے بروقت سخت مانیٹری پالیسی اپنائی۔ سٹیٹ بینک کی سخت پالیسی کا مقصد افراط زر کو قابو میں رکھنا ہے ۔ زرمبادلہ ذخائر کی بحالی کا عمل جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق فارن ایکسچینج مارکیٹ میں مزید وسعت اور اصلاحات ضروری ہیں۔ مالیاتی استحکام کیلئے بینکوں کا مناسب سرمایہ برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ ای ایف ایف پروگرام کے تحت پاکستان نے معاشی استحکام میں نمایاں پیشرفت کی۔ مشکل عالمی حالات اور مشرق وسطٰی جنگ کے باوجود سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔ مالی سال 26 میں جی ڈی پی کا 1اعشاریہ 6 فیصد پرائمری سرپلس حاصل ہونے کی توقع ہے ۔ آئندہ برسوں میں زرمبادلہ ذخائر مزید بہتر ہونے کی توقع ہے ۔

مشرق وسطٰی کا تنازع آئندہ مالی سال بھی پاکستان کی معیشت کو متاثر کرسکتا ہے ۔ آئندہ مالی سال معاشی ترقی کی شرح 3اعشاریہ 6 سے کم ہوکر 3اعشاریہ 5 فیصد ہوسکتی ہے ۔ آئندہ مالی سال بے روزگاری کی شرح صفر اعشاریہ 4 فیصد کم ہوکر 6اعشاریہ 5 فیصد ہوسکتی ہے ۔ آئندہ مالی سال مہنگائی کے بڑھنے کی شرح 7اعشاریہ 2 سے بڑھ کر 8اعشاریہ 4 فیصد ہوسکتی ہے ۔ آئندہ مالی سال معیشت میں قرضوں کا حصہ 3اعشاریہ 1 فیصد کم ہوکر 67اعشاریہ 2 فیصد ہوسکتا ہے ۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے نئی شرائط بھی عائد کر دی ہیں، شرائط میں مالی سال 2027 کے بجٹ میں گیس اور بجلی کے نرخ میں ردوبدل شامل ہے ۔ گیس ٹیرف میں جولائی 2026 اور فروری 2027 میں تبدیلی ہوگی، بجلی کے نرخ جنوری 2027 میں ایڈجسٹ کئے جائیں گے ۔ نیب کو مزید خودمختار اور شفاف بنانے کی شرط بھی شامل ہے ۔ مجموعی طور پر آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط 5 درجن سے تجاوز کر گئی ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق مقصد بجٹ نظم و ضبط، ٹیکس نظام اور معیشت کی بہتری ہے ۔ فاریکس نظام میں نرمی کا منصوبہ مارچ 2027 تک تیار ہوگا۔ پاکستان نے بیشتر مالی اہداف پورے کرلئے ہیں، کچھ ٹیکس اہداف اور اصلاحات مکمل نہیں ہو سکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں