محسن نقوی کی تہران میں اہم ملاقاتیں، یورپی ممالک کا آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنے کیلئے ایران سے رابطہ

محسن نقوی کی تہران میں اہم ملاقاتیں، یورپی ممالک کا آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنے کیلئے ایران سے رابطہ

تہران کے غیراعلانیہ دورہ پر وزیر داخلہ کا استقبال ایرانی ہم منصب نے کیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تنازع کے حل کیلئے کوششیں مخلصانہ اور پرعزم:سکندر مومنی حملہ ہوا تو نئی جنگ خارج از امکان نہیں، امریکا و خطے کے ممالک کو انتباہ، ہرمز میں آمد و رفت کے انتظام کا طریقہ کار تیار،جلد اعلان کیا جائیگا:سربراہ ایرانی سلامتی کمیٹی

اسلام آباد، تہران(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران امریکا مذاکرات میں بظاہر تعطل کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایران پہنچ گئے جہاں انہوں نے اہم ملاقاتیں کیں جبکہ یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنے کیلئے ایران سے رابطہ کرلیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق محسن نقوی جب غیراعلانیہ دورہ پر تہران کے مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تو ان کا استقبال ان کے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی نے کیا،ایرانی ٹیلی ویژن نے ایران اور پاکستان کے وزرائے داخلہ کے درمیان ملاقات کی تصاویر نشر کرتے ہوئے اس ملاقات کو ‘اہم’ قرار دیا ہے ۔اس موقع پر ایرانی وزیر داخلہ نے ایران کے خلاف حالیہ اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت پر پاکستان کے مؤقف کو دیانت دار اور مضبوط قرار دیتے ہوئے سراہا۔انہوں نے کہا ایران امن کا حامی ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو بہت سراہتا ہے۔

انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جاری تنازع کے حل کیلئے کوششوں کو مخلصانہ اور پُرعزم قرار دیا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔سکندر مومنی نے ہر سال اربعین(چہلم امام حسین ؓ)کے موقع پر ایران کے راستے عراق جانے والے پاکستانی زائرین کی بڑی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان کی سہولت کیلئے مکمل تعاون جاری رکھے گا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ رواں برس بھی ہزاروں پاکستانی زائرین اربعین میں شرکت کریں گے ، جن کیلئے انتظامات کو بہتر بنانے پر ایران اور عراق کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے ۔ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں مخصوص راستے کے تحت سمندری آمد و رفت کو منظم کرنے کیلئے ایک طریقہ کار تیار کر لیا ہے ، جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

انھوں نے وضاحت کی کہ اس نظام سے فائدہ اٹھانے والے وہ تجارتی فریقین اور بحری جہاز ہوں گے جو ایران کے ساتھ تعاون کریں گے ، اور اس طریقہ کار کے تحت فراہم کی جانے والی خصوصی خدمات کے عوض ضروری فیس بھی وصول کی جائے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ راستہ فریڈم پراجیکٹ میں شامل فریقین کیلئے بند رہے گا۔دوسری جانب یورپی ممالک آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کی اجازت حاصل کرنے کیلئے تہران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ایرانی ٹی وی نے ممالک کے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ مشرقی ایشیائی ممالک، خصوصاً چین، جاپان اور پاکستان کے جہازوں کے گزرنے کے بعد، آج ہمیں یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یورپی ممالک نے بھی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے گزرنے کی اجازت حاصل کرنے کیلئے مذاکرات شروع کر دئیے ہیں۔خیال رہے کہ ایران نے 28 فروری کو امریکااور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس اہم آبنائے میں سمندری آمد و رفت کو محدود کر دیا ہے۔

اس آبی راستے پر ایران کے کنٹرول نے عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور اس نے امریکا کے خلاف تہران کو ایک اہم تزویراتی برتری فراہم کی ہے ۔دوسری جانب، امریکا نے بھی ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے ۔عام حالات میں، دنیا بھر کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا تقریباً پانچواں حصہ، دیگر ضروری سامان کے ساتھ، آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے ۔ایران نے امریکا اور خطے کے ممالک کو انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ ہوا تو نئی جنگ خارج از امکان نہیں ہے، ایران کے رہبر اعلیٰ کے مشیر محمد مخبر نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے خطے کے بعض ممالک میں موجود امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم یہ ردعمل مکمل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا ایران کا یہ ضبط وقتی ہو سکتا ہے اور اسے مستقل پالیسی نہیں سمجھا جانا چاہیے ۔ ایران نے کئی برسوں تک ان ممالک کو دوست اور بھائی سمجھا، لیکن بعض ریاستوں نے اپنی خودمختاری کو داؤ پر لگا کر اپنی سرزمین دشمنوں کیلئے کھول دی۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے نورنیوز نے ایک سینئر فوجی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو ان اہداف کو ترجیحی بنیادوں پر نشانہ بنایا جائے گا، جنھیں گزشتہ 40 روزہ جنگ کے دوران مختلف وجوہات کی بنا پر ہدف نہیں بنایا گیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں