ریٹیلرز کیلئے نئی فکسڈ ٹیکس سکیم تیار، سالانہ 20 کروڑ تک کاروبار پر 1 فیصد ادائیگی کرنا ہوگی

ریٹیلرز کیلئے نئی فکسڈ ٹیکس سکیم تیار، سالانہ 20 کروڑ تک کاروبار پر 1 فیصد ادائیگی کرنا ہوگی

تاجر ایسوسی ایشنز کیساتھ مشاورت ، دکان کا سائز یا ایریا کی تجویز شامل نہیں ، سکیم پورے ملک کیلئے ہوگی،آئندہ ہفتے آئی ایم ایف سے حتمی منظوری ، بجٹ میں متعارف کرائی جائیگی رجسٹریشن نظام اردو زبان میں ہوگا،ایف بی آر کے پاس 30لاکھ ریٹیلرز کا ڈیٹا دستیاب ، تاجروں کی رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد ٹیکس شرح میں اضافے کی تجاویز متعارف کرائی جا سکتیں:ذرائع

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے نئی فکسڈ ٹیکس سکیم متعارف کرانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں جو کہ پورے ملک میں ریٹیلرز کیلئے متعارف کرائی جائے گی، آئی ایم ایف سے ریٹیلرز سکیم پر مذاکرات ہوئے ہیں جبکہ آئندہ ہفتے کے دوران حتمی منظوری مذاکرات کے دوران ہی لی جائے گی۔ حکومت نے اس سے قبل بھی تاجردوست سکیم متعارف کرائی تھی جس کے نتائج اہداف کے مطابق حاصل نہ کیے جا سکے ۔ تاجر دوست سکیم کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اس بار تاجرز ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر سکیم تیار کی ہے جس کو باقاعدہ آئندہ بجٹ میں متعارف کرایا جائے گا۔ ریٹیلرز کیلئے فکسڈ ٹیکس سکیم کے خدوخال کے مطابق سالانہ 20 کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والے ریٹیلرز کو رجسٹریشن کرانا ہو گی اور ٹرن اوور کا 1 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

حکومت جو سکیم متعارف کرانے جا رہی ہے یہ مکمل طور پر اردو میں دستیاب ہو گی اور رجسٹریشن کے عمل میں انگلش کی بجائے اردو زبان استعمال کی جائے گی۔ ریٹیلرز کیلئے دکان کا سائز یا ایریا شامل کرنے کی تجویز اس بار سکیم میں شامل نہیں کی جائے گی۔ باوثوق ذرائع کی جانب سے بتایا گیا کہ ایف بی آر کے پاس تیس لاکھ ریٹیلرز کا ڈیٹا دستیاب ہے جن کی رجسٹریشن کیلئے سکیم متعارف کرائی جا رہی ہے لیکن آئندہ مالی سال کیلئے تاجروں کی رجسٹریشن کا ہدف معمولی طے ہو گا۔ تاجروں کی رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد ٹیکس شرح میں اضافے کی تجاویز بھی سکیم میں متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت تاجروں اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ایسی قابل عمل سکیم تیار کی جا سکے جس کے ذریعے ریٹیلرز کا اعتماد بحال ہو اور وہ رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں متعارف کرائی گئی متعدد سکیمیں ناکام رہیں جس کی بنیادی وجہ پیچیدہ نظام اور تاجروں کا عدم اعتماد تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ تاجردوست سکیم اس لیے ناکام ہوئی کیونکہ اس میں ریٹیلرز کو ہر ماہ سادہ فارم جمع کرانے کے ساتھ سالانہ ریٹرن بھی فائل کرنا پڑتا تھا جبکہ دکان کے رقبے اور مقام کی بنیاد پر ٹیکس تعین کے طریقہ کار نے بھی مسائل پیدا کیے ۔ حکومت آئندہ ہفتے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ریٹیلرز کی نئی سکیم کے اہم نکات پر بات کرے گی۔ آئی ایم ایف سے آئندہ ہفتے منظوری لی جائے گی۔ آئی ایم ایف مشن بجٹ مذاکرات کیلئے 20 مئی تک پاکستان میں قیام کرے گا اور آئندہ تین دنوں میں بجٹ تجاویز کو مکمل کر لیا جائے گا۔ آئی ایم ایف سے منظوری ملنے پر ریٹیلرز کیلئے سکیم کو فنانس بل 2026-27 کا حصہ بنایا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اس بار تاجروں کو اعتماد میں لے کر ایسی سکیم لانا چاہتی ہے جو عملی طور پر کامیاب ہو سکے ۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق دستاویزی تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری منصوبہ بندی کو فروغ دینے کیلئے تاجروں کی مشاورت سے سکیم کامیاب ہو سکے گی۔ سکیم کے تحت تاجروں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے سہولت دے کر بتدریج اصل آمدن اور ٹرن اوور ظاہر کرنے پر آمادہ کیا جائے گا۔ اس مقصد کیلئے ماضی کے ریکارڈ سے متعلق محدود مدت کی یقین دہانی، آسان فائلنگ نظام اور رسک بیسڈ نگرانی کی تجاویز بھی ہیں۔ آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولیوں میں مسلسل کمی اور محدود ٹیکس بیس کو سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے ایف بی آر پر ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے اصلاحات تیز کرنے پر زور دیا، ۔ آئی ایم ایف نے نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں لانے اور ریٹیلرز کی ٹیکس رجسٹریشن سکیم پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی تجویز دی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں