پنکی کی پیشی پر چیخ و پکار، جھوٹے مقدمات کا الزام، جسمانی ریمانڈ میں توسیع
سخت سکیورٹی میں ڈیوٹی مجسٹریٹ ملیر کورٹس میں پیشی،میڈیا کیساتھ گفتگو سے روک دیاگیا ملزمہ شاطر، بار بار بیان بدل رہی، نشاندہی پر ریکوری ہو رہی، مزید 11مقدمات درج کیے :تفتیشی لاہور سے گرفتار، جھوٹے مقدمات بنائے ، تشدد کیا گیا،بنی گالہ کے ایک شخص کا نام لینے کا کہا جا رہا:پنکی
کراچی (سٹاف رپورٹر،این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)پولیس نے کوکین کوئن انمول عرف پنکی کو سخت سکیورٹی میں چہرہ ڈھانپ کر ڈیوٹی مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کر دیا،ملزمہ نے پیشی کے دوران چیخ و پکار کی اور جھوٹے مقدمات کا الزام لگایا۔ ملزمہ کو چہرہ ڈھانپ کر سخت سکیورٹی میں سٹی کورٹ کراچی لایا گیا اور جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔پنکی نے عدالت پیشی کے دوران شور شرابہ کیا اور کہا کہ مجھے 22 دن سے اٹھایا ہوا ہے ، مجھے لاہور سے گرفتار کرکے وین میں لایا گیا، میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور تشدد بھی کیا گیا۔ ملزمہ نے عدالت کو بتایا کہ مجھے مارا گیا ہے ، مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں، میرے ساتھ ظلم ہوا ہے ۔ جج نے ملزمہ سے نام پوچھتے ہوئے کہا کہ آپ آرام سے بیٹھ جائیں، پانی پئیں، یہ سٹی کورٹ ہے ، یہاں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کرے گا۔
ملزمہ نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ میرا نام انمول ہے ، مجھے 20دن سے اٹھایا ہوا ہے ، مجھ پر بوری بھر بھر کر منشیات ڈالی گئی، 6 آدمی مجھے گاڑی میں ڈال کر لے کر آئے ، 15دن بعد مجھے پولیس کے حوالے کیا گیا ، مجھ پر زور زبردستی لوگوں کے نام کہلوائے جارہے ہیں، مجھ سے کہا جارہا ہے جو ہم نام بتارہے ہیں ان سب کا نام لو۔عدالت نے کہا کہ آپ کا اقبالی بیان نہیں ہو رہا ہے ابھی۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ پرانا آرڈر کہاں ہے ۔ملزمہ سے پوچھا کہ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ؟ملزمہ نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کہ میرے خلاف 20 سے 25 پرچے ڈالے جارہے ہیں ، کہا جارہا ہے کہ سب کچھ قبول کریں ورنہ آپ کی فیملی کو اٹھا کر لے جائیں گے ، اسی طرح بنی گالہ کے ایک بندے کا نام لیا جارہا ہے ، کہا جارہا ہے اس کا نام لو، پہلے دن مجھے وین میں لائے تھے ، انہوں نے کہا تھا ایسے آپ نے چلنا ہے ،میری گرفتاری جہاں سے ڈالی گئی وہ گھر میرا نہیں ہے ۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہم نے معائنہ کیا، مزید 11مقدمات درج کیے گئے ۔ ملزمہ کی نشاندہی پر منشیات بھی برآمد کی گئی ۔ملزمہ بہت عرصے بعد پکڑی گئی ہے ۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسارکیا کہ ملزمہ کا پہلا آرڈر کہاں ہے ؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا پہلا آرڈر پولیس موبائل میں موجود ہے ۔ اس پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ انویسٹی گیشن ہے آپ کی۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ 3 کیسز ہیں، معزز عدالت کو صحیح طرح سمجھا نہیں سکا، ملزمہ آج تک نہیں پکڑی گئی تھی، بہت عرصے سے کام کر رہی ہے ، یونیورسٹیوں میں نسلیں تباہ کردی گئی ہیں، 800 افراد کے نمبر ملے ہیں جن کو منشیات سپلائی کر رہی تھی، ملزمہ کے گینگ میں غیرملکی بھی شامل ہیں۔ تفتیشی افسر نے بتایا ملزمہ بہت ہی شاطر ہے ، بار بار بیان بدل رہی ہے ، ملزمہ نے ابھی آتے ہوئے کہا مجھے جانتے نہیں ہو، میرا نام پنکی ہے ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 2 روز کی توسیع کردی۔
تحریری حکم نامے میں عدالت نے قرار دیا کہ متوفی کے قبضے سے برآمد ہونے والے ڈبے پر کوئن میڈم پنکی ڈان درج تھا جبکہ ملزمہ کے خلاف منشیات سے متعلق دیگر مقدمات بھی موجود ہیں، جو ابتدائی طور پر تائیدی شہادت کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ مقدمہ سنگین نوعیت کا ہے اور منصفانہ نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید تفتیش ضروری ہے ۔ عدالت نے گزری اور درخشاں تھانوں میں درج منشیات کے متعدد مقدمات میں ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کرتے ہوئے اسے 25 مئی تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں قرار دیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167(5)کے تحت خاتون ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ صرف قتل اور ڈکیتی کے مقدمات میں دیا جاسکتا ہے ، اس لیے منشیات کے مقدمات میں پولیس ریمانڈ کی استدعا قانون کے مطابق نہیں۔ اسپیشل سنڈے مجسٹریٹ کراچی سینٹرل عبد الستار کی عدالت نے ایس آئی یو تھانے میں درج مقدمے میں ملزمہ انمول عرف پنکی کو 6 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کی ٹرانزیکشن ریکور کرلی گئی ہے ، 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوچکی ہے ، اس کا چھوٹا بھائی لاہور میں منشیات سپلائی کرتا ہے ۔ملزمہ پنکی نے عدالت کو بتایا کہ میرے گھر سے منشیات برآمدکی گئی، وہ گھر 25 سال سے بند تھا، مجھے ڈرایا گیا ہے پوری فیملی کو بند کرنے کی دھمکی دی گئی، کیا میں مسکراتے ہوئے خوش آمدید کہوں گی یا چھاپے پر پریشان ہوں گی، میرے دھول سے اٹے گھر سے منشیات کی چمکتی تھیلیاں نکلی ہیں۔ جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا ان کے 800 سے زائد منشیات کے کیسز ہیں ،ان کا منشیات کے مقدمات کا فیملی بیک گراؤنڈ ہے ۔ وکیل ملزمہ نے عدالت کو بتایا کہ پنکی کے جوتے گر گئے ہیں ، جوتے دلوائے جائیں، پاؤں جل رہے ہیں، جس پر پولیس اہلکار نے کہا کہ دھکوں میں ہمارے جوتے بھی گر چکے ہیں۔انمول پنکی نے عدالت کو بتایا کہ میں میڈیا سے بات کرنا چاہتی ہوں ۔
عدالت نے کہا آپ کو میڈیا سے بات کرنے نہیں دے سکتے ۔ ملیر کی عدالت میں سچل تھانے کے مقدمے میں سماعت کے دوران عدالت نے ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے 14 روز میں چالان طلب کرلیا۔ پراسیکیوشن نے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کے فیصلے کے خلاف کرمنل ریویژن دائر کی جائے گی۔ عدالتوں میں پیشیوں کے دوران ملزمہ نے میڈیا سے گفتگو کی اجازت بھی طلب کی، تاہم عدالت نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ سٹی کورٹ میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے مبینہ سہولت کاروں اور مالی لین دین کے معاملے میں گرفتار دو افراد کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزموں میں ایزی لوڈ شاپ کے مالک سہیل اور ذیشان شامل ہیں، جن کے خلاف تھانہ گارڈن میں مقدمہ درج ہے ۔ عدالت نے دونوں ملزموں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ مقدمے کی تفتیش مکمل کرکے 14 روز میں چالان عدالت میں پیش کیا جائے ۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزموں پر مبینہ طور پر منشیات کے نیٹ ورک کی مالی ٹرانزیکشنز اور سہولت کاری میں ملوث ہونے کا الزام ہے ۔ علاوہ ازیں کراچی سٹی کورٹ میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہو گیا۔ کمرہ عدالت اور ججز کے چیمبرز میں اندھیرا چھا گیا، جس سے انمول پنکی کے کیسز میں ریمانڈ کی درخواستوں پر فیصلہ جاری ہونے میں تاخیر ہو گئی۔سٹی کورٹ میں بجلی کی عدم موجودگی کے باعث کمپیوٹر اور پرنٹرز بند رہے ۔