شہباز شریف کا دورہ چین سٹریٹجک اہمیت کا حامل

شہباز شریف کا دورہ چین سٹریٹجک اہمیت کا حامل

امریکی پالیسی سازوں سمیت سفارتی حلقوں کی اسی دورے پر نظر

(تجزیہ:سلمان غنی)

وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کا بنیادی مقصد تو پاک چین دوستی کی پچہترویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت ہے مگر موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں اسے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے ،اس دوران امریکا ایران جنگ کے اثرات اور خلیج میں امن و استحکام پر بھی بات ہو گی اور پاکستان اپنے عظیم دوست چین کی لیڈر شپ کو امریکا ایران مذاکراتی عمل اور اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کرے گا، وزیراعظم کی چین کے صدر اور وزیراعظم سے الگ الگ ملاقاتیں بھی ہوں گی جس بنیاد پر اس دورہ اور مشاورتی عمل کو سٹرٹیجک اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے ،اس موقع پر دو طرفہ تعلقات خصوصاً سی پیک پر ہونے والی پیش رفت زراعت معدنیات اور توانائی کے نئے منصوبوں پر بھی بات چیت ہو گی،پاکستان کی کوشش ہو گی کہ وہ چین کے ساتھ اپنی سٹرٹیجک پوزیشن مزید مضبوط بنائے جبکہ عالمی طاقتوں کے درمیان بھی توازن قائم رکھے۔

پاکستان اس وقت اقتصادی سفارتکاری کو خارجہ پالیسی کا مرکز بنانے جا رہا ہے جس میں چین کا کردار اہم ہوگا اور اس حوالے سے وزیراعظم کے دورہ چین میں مختلف شعبہ جات میں بڑے اقدامات بھی متوقع ہیں، خصوصاً دفاعی پیداوار، مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں تعاون پر بات چیت ہو سکتی ہے ، بلا شبہ پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی ،معاشی ،آئی ٹی اور دیگر شعبہ جات میں تعاون کا سلسلہ تو بہت پہلے سے جاری ہے مگر اس مرتبہ دورہ کی اہمیت علاقائی اور خصوصاً عالمی صورتحال کے حوالے سے اہم ہو گی اس لئے کہ چین پاکستان کو خطے میں ایک تزویراتی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے ۔امریکا ایران جنگی کیفیت میں یہ چین ہی تھا جس نے کھل کر پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں اور پاکستان کے ثالثی کردار کی تائید کی تھی اور مذاکراتی عمل کے پیچھے بھی چین کی معاونت شامل تھی لہذا اس دورہ کو صرف روایتی دورہ قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ اسے علاقائی سلامتی خصوصاً امریکا ایران کے درمیان تناؤ کے خاتمہ اور خلیج میں امن استحکام بارے اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔

اس وقت چین کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ چین خلیج اور مشرق وسطیٰ میں استحکام چاہتا ہے کیونکہ اس کی توانائی کی ضروریات اس خطہ سے وابستہ ہیں اور پاکستان بھی کسی بڑی جنگ کے معاشی و سکیورٹی اثرات سے متاثر ہو سکتا ہے اس لیے بیجنگ میں دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے اور سفارتی عمل کی نتیجہ خیزی پر بھی مشاورت متوقع ہے ۔سفارتی حلقوں میں صدر ٹرمپ کے دورہ کے بعد شہباز شریف کے دورہ چین کا گہرائی سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔امریکی پالیسی ساز تو ابھی سے یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ کیا چین پاکستان کے ذریعے خلیج کی سیاست اور خصوصاً جنوبی ایشیا میں اپنا اثر اور تو بڑھا نہیں لے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں