ہندوتوا ،صیہونی گٹھ جوڑ کیخلاف مسلم دنیا کو متحد ہونا ہوگا:مشاہد حسین

ہندوتوا ،صیہونی گٹھ جوڑ کیخلاف مسلم دنیا کو متحد ہونا ہوگا:مشاہد حسین

اسرائیل ناقابلِ قبول، قیامِ پاکستان سے قبل اسرائیل بارے مؤقف طے کر دیا گیا تھا پاکستان کا ایٹمی پروگرام مسلم دنیا کیلئے حوصلے کی علامت ، فلسطینی سکالر ، لیکچر سے خطاب

اسلام آباد ( دنیا رپورٹ )فلسطین کے ممتاز سکالر استنبول میں قائم سینٹر فار اسلامک اینڈ گلوبل افیئرز (CIGA) کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سامی العریان نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے لئے طاقت کا سرچشمہ ہے ،پاکستان ایٹمی مسلم ریاست ہے جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی ، انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام پاکستان کے شکر گزار ہیں جو اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر ان کی آواز بلند کرتا ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں انٹرنیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس (IPC) اور پاکستان افریقہ انسٹیٹیوٹ فار ڈیوپلپمنٹ اینڈ ریسرچ (PAIDAR) کے اشتراک سے منعقدہ خصوصی لیکچر ‘‘ابھرتا ہوا مشرق وسطیٰ ،صیہونی ،ہندوتوا گٹھ جوڑ’’ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، سینیٹر ستارہ ایاز، سیکر ٹر ی جنرل آئی پی یو ،سینیٹر مشاہد حسین سید، صدر PAIDAR نے مشترکہ طور پر اس لیکچر کی میزبانی کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ مسئلہ فلسطین اور کشمیر پاکستان کی قومی پالیسی کا بنیادی حصہ ہیں ‘‘کشمیر ہماری شہ رگ ہے ’’ اور ‘‘اسرائیل ناقابلِ قبول ہے کیونکہ وہ ایک ناجائز ریاست ہے ’’ اسرائیل بارے مؤقف بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان سے قبل ہی طے کرلیا تھا ،انہوں نے مسلم حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ د ہری پالیسی ترک کرتے ہوئے ہندوتوا ،صیہونی گٹھ جوڑ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپناتے ہوئے متحد ہو جائیں ، انہوں نے ایران کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی حمایت کے باعث ایران کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے ۔ پروفیسر سامی العریان نے مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال، ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی پالیسیوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تفصیلی اظہار خیال کیا ، انہوں نے کہا کہ مسلم ریاستوں کو دفاعی طور پر طاقتور ہونے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے ، تاہم پاکستان کا ایٹمی پروگرام پوری مسلم دنیا کے لیے حوصلے کی علامت ہے ،تقریب میں سفارتکاروں، پارلیمنٹیرینز، ریٹائرڈ فوجی افسران، سول سوسائٹی ،میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں