زرعی تحقیق پر سرمایہ کاری نہ کی تو مطلوبہ نتائج ملنا مشکل،رانا تنویر
پاکستان زرعی تحقیق پر قومی پیداوار کا 0.02 فیصد،بھارت 0.4 فیصد خرچ کر رہا کسانوں کو معیاری بیج، پانی اور کھاد فراہم کیا جائے ، سینیٹ کمیٹی قومی غذائی تحفظ
اسلام آباد(نامہ نگار)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو آگاہ کیا گیا کہ حالیہ سیلاب، شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے اس سال گندم کی پیداوار کو متاثر کیا ۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید مسرور احسن کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے بتایا کہ زرعی شعبے کی بحالی وزیراعظم کی اولین ترجیح ہے ، کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں فی ایکڑ گندم اور چاول کی پیداوار خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے جس میں اضافے کے لیے گزشتہ دوبرسوں کے دوران مختلف حکومتی اقدامات کیے گئے ۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان زرعی تحقیق پر مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.02 فیصد خرچ کرتا ہے جبکہ بھارت 0.4 فیصد خرچ کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ اگر زرعی تحقیق پر سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے ۔ رکن کمیٹی شہادت اعوان نے کہا کہ پیداوار میں کمی کی وجوہات کو شفاف انداز میں سامنے لانا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کمیٹی کو بتایا کہ حالیہ سیلاب، شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے اس سال گندم کی پیداوار کو متاثر کیا۔ رکن کمیٹی شہادت اعوان نے زور دیا کہ کسانوں کو معیاری بیج، پانی اور کھاد کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ چیئرمین کمیٹی سید مسرور احسن نے خضدار اور تربت میں زرعی لیبارٹریوں کے منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کپاس کی کم پیداوار کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کسانوں کو مناسب قیمت نہیں ملتی۔ رکن کمیٹی شہادت اعوان نے 2016 اور 2021 میں بیج قوانین میں کی گئی ترامیم، لائسنسنگ کے طریقہ کار، ریگولیٹری نظام اور مجوزہ سیڈ ایکٹ ترامیم سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔