حیدر آباد:کروڑوں کے سرکاری واجبات وصول کرنے کی تیاری
لینڈیوز کنورژن چارجز پر13 بڑے کمرشل مالکان کے این اوسیز بغیر نوٹس منسوخ ہونگے اسپتال، پٹرول پمپ شامل، ادارہ ترقیات کا نادہندگان کیخلاف فیصلہ کن آپریشن کااعلان
حیدر آباد (بیورو رپورٹ)کروڑوں روپے کے سرکاری واجبات کی عدم ادائیگی پر نادہندگان کے خلاف بڑے کریک ڈان کا فیصلہ کرلیا گیا، لینڈ یوز کنورژن چارجز ادا نہ کرنے والے 13 بڑے کمرشل مالکان، پٹرول پمپس اور اسپتالوں کے این او سیز بغیر کسی مزید نوٹس منسوخ ہونگے ۔ میڈیا سیل ایچ ڈی اے کے اعلامئے کے مطابق ادارہ ترقیات حیدرآباد نے شہر میں غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں اور کروڑوں روپے کے سرکاری واجبات ادا نہ کرنیوالے نادہندگان کے خلاف حتمی اور فیصلہ کن آپریشن کا اعلان کر دیا۔ ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کنٹرول ایچ ڈی اے اصغر میمن نے لینڈ یوز کنورژن چارجز کی عدم ادائیگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام نادہندگان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے واجبات کی ادائیگی کو فی الفور یقینی بنائیں، بصورت دیگر ان کے منصوبوں کو جاری این او سی بغیر کسی مزید مہلت یا نوٹس کے فوری طور پر منسوخ کر دیے جائیں گے ، ڈائریکٹر P&DC کے مطابق مذکورہ پراپرٹی مالکان کو سرکاری واجبات کی ادائیگی کے لئے متعدد نوٹسز کے علاوہ ہرممکن طریقہ سے یاددہانی بھی کرائی گئی تھی تاہم انہوں نے مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ۔ لہذا ایچ ڈی اے ادارتی اور عوامی مفاد میں یہ اقدام اٹھانے پر مجبور ہے ۔ جن 13 بڑے نادہندگان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے ، ان میں امین محمدی، میسرز ہاشم اینڈ رضیہ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ، تاج محمد ڈاہری اور ہاشم الدین، محمد عثمان میمن (کمرشل بلاک I اور II)محمد عارف میمن (ٹرائینگل ٹاور)، مسٹر اشرف جتوئی (ضیا الدین اسپتال)ارشاد علی خواجہ، بلال صادق (کباب جیز)عمیر احمد لون (کیپٹل لگژری)، سعید احمد چوہان، فاروق میمن (مدینہ CNG)ذیشان میمن اور نعمان، سہیل اینڈ حمید اﷲ شامل ہیں ۔