آپریشن سندور کے حقائق بھارتی دعوؤں کی نفی :امریکی تجزیہ کار
پاکستان نے فضائی حدود میں دراندازی کا پتہ لگاکر مختصر وقت میں جوابی حملہ کیا پاکستان نے اٹھارہ ماہ تیز رفتار رسپانس نیٹ ورک بنانے میں صرف کئے :سید مرانڈی
اسلام آباد (اے پی پی)ایرانی نژادامریکی ماہر تعلیم و سیاسی تجزیہ کار سید محمد مرانڈی نے پاکستان ،بھارت کے درمیان 2025 کے تصادم سے متعلق کہا ہے کہ پاکستان کے جوابی حملے نے آپریشن سندور بارے بھارت کے جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کیا اور علاقائی فوجی ڈائنامکس میں تبدیلی کو ظاہرکیا،آپریشن سندور کے دستاویزی حقائق بھارتی دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔ محمد مرانڈی نے یہ بات انٹرنیٹ کے پروفیسر جیانگ کے ذریعے شیئر کردہ ایک ویڈیو تجزیے میں مزید کہا کہ پاکستان نے اپنی فضائی حدود میں دراندازی کا پتہ لگانے کے چار گھنٹے اور سترہ منٹ کے اندر جوابی حملہ کیا جو اس وقت سے انتہائی کم ہے جو ایک ملک کو سکیورٹی میٹنگ بلانے اور انٹیلی جنس کی تصدیق کیلئے چاہیے ہوتے ہیں اوراس کیلئے 24گھنٹے کی ضرورت ہوتی ہے ،جنوبی ایشیاکے فوجی تجزیہ کاروں کے پاس موجود 8 مئی کے 3بجے سے سیٹلائٹ ڈیٹا میں 240 کلومیٹر کے جنگ زدہ علاقے میں فوجی تنصیبات پر سترہ درست حملوں کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ اٹھارہ ماہ ایک مربوط تیز رفتار رسپانس نیٹ ورک کی تیاری میں صرف کئے ، راولپنڈی میں ایک سنٹرل کمانڈ سینٹر کو ڈیٹا فیڈ کرنے کیلئے اکتوبر 2024 سے چین کی تکنیکی مدد سے اپ گریڈ کیا گیا ہے ۔ان کے مطابق پاکستانی ریڈار نے بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں کا پتہ لگایا جو 6 مئی کو مقامی وقت کے مطابق لاہور کے شمال میں فضائی حدود میں داخل ہو رہی تھیں، نوے سیکنڈ کے اندر سسٹم نے ان کو دشمن کے جاسوس قراردیا اور تین منٹ کے اندر سیٹلائٹ کی تصویروں نے تصدیق کی کہ موبائل لانچرز کو بھارتی علاقے کے اندر سے متحرک کیا جا رہا ہے ۔