ایران کے کویت، بحرین پر جوابی حملے : قشم جزیرے میں ایرانی فوجی تنصیب پر امریکی میزائل داغے گئے، جسکے بعد پاسداران انقلاب نے کویتی ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، 1 ہلاک، 63 افراد زخمی
امریکا کے پانچویں بحری بیڑے ،ایئربیس ،ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنانیکا دعویٰ،سینٹکام کی تردید،بحرین کویت جنگ بندی کی خلاف ورزی کے ذمہ دار، نشانہ بنا ناہمارا حق:ایران، عراقچی کا پاکستان سمیت6ممالک سے رابطہ ہلاک شہری بھارتی،کویت کا ایرانی سفارتی عملے کے 2ارکان کو ملک چھوڑنے کا حکم،ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضامند،مجتبیٰ خامنہ ای مذاکرات میں شریک،ملاقات ہو سکتی:ٹرمپ، نیتن یاہو سے تلخ گفتگو کی تصدیق
تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی، قشم جزیرے میں ایرانی فوجی تنصیب پر امریکی میزائل داغے گئے جس کے جواب میں ایران نے کویت ، بحرین پر حملے کردئیے ، کویتی ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا ، ایک ہلاک ،63 افراد زخمی ہوگئے ۔ پاسداران انقلاب نے کہا جزیرہ قشم میں کمیونی کیشن ٹاور پر امریکا نے حملہ کیا جس کے جواب میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران نے امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹرز، ایئربیس اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا، پاسداران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی آئل ٹینکر پر حملے کے بعد ایک جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی متاثر کرنے کی قیمت امریکا کو چکانا ہوگی۔کویت کی وزارتِ دفاع نے بتایا بدھ کو علی الصبح اس کی مسلح أفواج نے ایرانی حملوں کے دوران 13 بیلسٹک میزائلوں اور 17 ڈرونز کو تباہ کیا ہے جن میں کچھ رہائشی علاقوں کے اوپر تباہ کئے گئے جس کے نتیجے میں ملبہ گرا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حملوں میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت دیگر عام شہری اور عام تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک بھارتی شہری ہلاک ہوا، متعدد لوگ زخمی ہوئے اور وسیع پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا۔بھارت نے بھی تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والوں میں اس کا ایک شہری شامل ہے جبکہ کئی دیگر بھارتی شہری زخمی ہوئے ہیں۔کویت کی وزارتِ صحت کے مطابق کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیے گئے میزائل و ڈرون حملے میں کم از کم 63 افراد زخمی ہوئے جن میں ایئرپورٹ کا عملہ اور مسافر بھی شامل ہیں۔ان حملوں کے بعد کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک میں فضائی ٹریفک اور پروازوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا بھی اعلان کیاجنہیں بعد میں بحال کردیا گیا۔کویت نے ایرانی سفارتی عملے کے دو اراکین کو ‘ناپسندیدہ’ شخصیات قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔کویت کے نائب وزیر خارجہ حمد سلیمان المشعان نے ایران کے سفارت خانے کے قائم مقام ناظم الامور،قونصلرحامد حمید یعقوبی فر کو طلب کیا اور انھیں ایک باضابطہ احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔
مراسلے میں ایران کے حملوں پر سخت احتجاج کرتے ہوئے سفارتی عملے کی تعداد کم کرنے اور ایرانی سفارت خانے کے دو ارکان کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ انھیں 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے ۔پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح چار بجے بحرین کی وزارت داخلہ کی جانب سے بھی آگاہ کیا گیا کہ میزائل اور ڈرون حملے کے بعد ملک کا فضائی دفاع کا نظام فعال کر دیا گیا ہے ۔ بحرین نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے شہریوں سے درخواست کی وہ پرسکون رہیں، قریب ترین محفوظ مقام کی طرف جائیں اور سرکاری چینلز کے ذریعے دی جانے والی اطلاعات پر نظر رکھیں۔ادھر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پاکستان سمیت 6 ممالک کے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے امریکی حملوں کے جواب میں کی جانیوالی کارروائیوں پر اعتماد میں لیا، ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر اور فرانس کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا،اعلامیے میں کہا گیا کہ حق دفاع کے طورپر امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے کویت اور بحرین کی قیادت پر براہِ راست اور واضح ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی آئل ٹینکر پر حملے اور جزیرہ قشم میں ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی اور کی جانے والی کارروائی خطے کے دو ممالک سے کی گئی۔ایران نے ان کارروائیوں کو 10 اپریل کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کویت اور بحرین کی قیادت پر براہِ راست اور واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ان حملوں کے ردعمل میں اصل مقام (یعنی جہاں سے حملے کیے گئے ) کو نشانہ بنانے کا حق حاصل ہے ۔ادھر امریکی سینٹ کام کے مطابق ایران نے 3 ڈرون حملے بحری جہازوں پر کئے جنہیں ناکام بنا دیا گیا، بحرین میں ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹرز اور ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ غلط ہے۔
سینٹ کام کے مطابق اس نے جنوبی ایران میں دفاعی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا، جس میں میزائل لانچنگ سائٹس، بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی کشتیوں اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ادھر امریکی افواج نے بوٹسوانا کے پرچم بردار آئل ٹینکر کو ناکارہ بنا دیا، آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضامند ہو گیا ہے اور ان مذاکرات میں ملک کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آیت اللہ مذاکرات سے متعلق منظوری دے رہے ہیں ،میں ان سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں ،ممکن ہے کہ مستقبل میں اُن سے ملاقات ہو جائے ، یہ سب حالات پر منحصر ہے ۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات بہت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، ممکن ہے کہ اس ہفتے کے اختتام تک کوئی پیش رفت ہو جائے ۔
انہوں نے کہا آبنائے ہرمز کا معاملہ جلد حل ہو جائے گا جبکہ ایران سے متعلق تنازع ختم ہونے کی صورت میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی آئے گی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں فیول کی قیمتیں کم ہوں گی۔کویت پر ہونے والے حالیہ حملے کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ یہ حملہ امریکی کارروائیوں کے ردِعمل میں کیا گیا ہو سکتا ہے ، انہوں نے کہاہر چیز کی ایک وجہ ہوتی ہے ، اور ہم نے اس سے ایک رات پہلے اور درحقیقت گزشتہ رات بھی انہیں کافی سخت نشانہ بنایا تھا۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ زیرِ غور معاہدے کے تحت امریکا ایران کے اعلیٰ درجے تک افزودہ کیے گئے یورینیم کے ذخیرے پر کنٹرول حاصل کر لے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے لبنان جنگ کے معاملے پر تلخ گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ لبنان کے ساتھ مسلسل جنگ جاری رہنے پر ناخوش تھے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ میں غصے میں نہیں تھا لیکن میں اُن کی لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی پر کچھ پریشان ضرور تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان تعلقات بہت اچھے ہیں۔انہوں نے اشارہ دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا فرانس میں ہونے والے جی 7 اجلاس میں شرکت کروں گا، 14جون کو وائٹ ہاؤس میں یو ایف سی فائٹ کے بعد فرانس روانہ ہوں گا، وائٹ ہاؤس میں اس سطح کی فائٹس پہلے کبھی نہیں ہوئیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بھی امریکی قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور مذاکرات میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں۔
مارکو روبیو کے مطابق ایران کے مؤقف میں بعض معاملات پر بات چیت کے حوالے سے ممکنہ لچک دیکھی جا رہی ہے تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہونے کہا ایران کے خلاف کشیدگی میں مزید اضافہ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے ۔انہوں نے کہا اسرائیلی اور امریکی افواج ایران کے خلاف دوبارہ مکمل پیمانے کی فوجی کارروائی شروع کرنے کیلئے تیار ہیں تاہم عسکری کارروائی میں مزید وسعت دینے کا فیصلہ وہ ٹرمپ پر چھوڑ رہے ہیں۔نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت کے ذریعے کھولنا ممکن ہے ۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران نے ابھی تک اپنے جوہری مواد کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی تاہم اس پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔