ماتحت عدالتوں کو مقدمات واپس بھیجنے کا اختیار معمول میں استعمال نہیں ہوسکتا : سپریم کورٹ

ماتحت عدالتوں کو مقدمات واپس بھیجنے کا اختیار معمول میں استعمال نہیں ہوسکتا : سپریم کورٹ

یہ غیر معمولی اور اصلاحی نوعیت کا اختیار ہے ،اپیلٹ عدالتیں کیسزخودنمٹانے کی پابند ہیں:عدالت فریقین کو غیر ضروری مقدمہ بازی میں نہ الجھائیں :خلع، حق مہر ،نان و نفقہ کیس میں تفصیلی فیصلہ جاری

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر،اے پی پی)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مقدمات کو دوبارہ سماعت کے لیے ماتحت عدالتوں کو واپس بھیجنے (ریمانڈ)کا اختیار ایک غیر معمولی اور اصلاحی نوعیت کا اختیار ہے جسے معمول کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا،اپیلٹ عدالتیں کیسزخودنمٹانے کی پابند ہیں، اپیلٹ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ ریکارڈ مکمل ہونے کی صورت میں وہ خود تنازعے کا فیصلہ کریں اور فریقین کو غیر ضروری مقدمہ بازی میں نہ الجھائیں۔ تفصیلی تحریری فیصلے کے مطابق چیف جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خلع، حق مہر، طلائی زیورات اور بچوں کے نان و نفقہ سے متعلق خاندانی مقدمے میں محمد زبیر کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کرلیا۔سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ یہ خاندانی مقدمہ 2017 سے زیر التوا ہے اور تقریباً ایک دہائی گزرنے کے باوجود حتمی طور پر حل نہیں ہو سکا،خاندانی تنازعات میں میاں بیوی اور بچوں کے حقوق شامل ہوتے ہیں اس لیے ایسے مقدمات میں فوری اور حتمی فیصلہ ناگزیر ہے ۔عدالت نے پشاور ہائی کورٹ اور اپیلٹ عدالت دونوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ دوبارہ اپیلٹ عدالت کو بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ وہ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر فریقین کو سن کر تین ماہ کے اندر اندر مقدمے کا حتمی فیصلہ کرے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں