بلوچستان میں پٹرول بحران، ایرانی تیل مقامی سے بھی مہنگا

بلوچستان میں پٹرول بحران، ایرانی تیل مقامی سے بھی مہنگا

سرحدی بندش سے سپلائی متاثر ہوئی ،کوئٹہ شہر میں 400روپے فی لٹردستیاب مہنگا پٹرول بیچنے والے منی پٹرول پمپوں کیخلاف کریک ڈاؤن ،متعدد افراد گرفتار

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک )کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں پٹرول کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ، مختلف علاقوں میں نہ صرف نسبتاً سستا ایرانی پٹرول نایاب ہوگیا ہے بلکہ جہاں دستیاب ہے وہاں اس کی قیمت پاکستانی آئل کمپنیوں کے پٹرول سے بھی زیادہ ہو چکی ہے ۔بلوچستان کے کئی علاقوں میں پاکستانی آئل کمپنیوں کے پٹرول پمپس اور سپلائی کا مناسب نظام موجود نہیں، جس کے باعث وہاں ایرانی پٹرول پر انحصار کیا جاتا ہے ۔ عید سے قبل کوئٹہ میں ایرانی پٹرول 280 روپے فی لٹر میں فروخت ہو رہا تھا تاہم عید سے چند روز قبل اس کی قیمت 380 روپے فی لٹر تک پہنچ گئی جبکہ اب اس نرخ پر بھی پٹرول دستیاب نہیں۔

ریلوے کالونی کوئٹہ کے رہائشی بسم اللہ بلوچ کے مطابق شہر میں ایرانی پٹرول 400 روپے فی لٹر سے زائد قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ پاکستانی آئل کمپنیوں کے متعدد پٹرول پمپس پر بھی پٹرول دستیاب نہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔سرکاری حکام کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے پٹرول کی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے زائد نرخوں پر تیل فروخت کرنے والے منی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے اور متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔ تربت میں ایرانی پٹرول 340 روپے فی لٹر جبکہ گوادر میں 260 سے 270 روپے فی لٹر میں فروخت ہو رہا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں