وفاقی بجٹ میں عوامی سطح پر ریلیف کا احساس ابھی محدود

 وفاقی بجٹ میں عوامی سطح پر ریلیف کا احساس ابھی محدود

آئی ایم ایف کی نگرانی میں بننے والا بجٹ توقعات سے زیادہ سخت ہوگا

(تجزیہ:سلمان غنی)

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے اہم صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات سے اہم ملاقات میں جہاں برآمدات پر مبنی ترقی کو اپنی معاشی پالیسی کا محور قرار دیا، وہاں انہوں نے ملکی معیشت میں استحکام اور بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا عندیہ دیتے واضح کیا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں۔کاروباری حضرات نے قومی معیشت کی مضبوطی اور بجٹ کے حوالے سے وزیراعظم کو تجاویز دیتے ہوئے معاشی بحالی اور ترقی کے عمل میں حکومت کو اپنے ممکنہ تعاون کا یقین دلایا اور برآمدات میں اضافے اور نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حکومتی عزم کو سراہا۔لہٰذا اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ آیا حکومت بجٹ میں مہنگائی زدہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہے ،اگر معیشت کی عملی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو حکومت کے بعض دعوؤں کی تائید معاشی اعداد و شمار سے ہوتی ہے ۔

کچھ معاشی اشاریے بہتر ضرور ہوئے ہیں، لیکن عوامی سطح پر ریلیف کا احساس ابھی محدود ہے ، اس لیے کہ عام شہری کے لیے اصل سوال روزمرہ اخراجات، بجلی و گیس کے بل، روزگار اور آمدنی کی صورتِ حال ہے ۔ اس لیے ریلیف کے دعوؤں کی صداقت کے بارے میں رائے اس بات پر منحصر ہوگی کہ پیمانہ سرکاری اعداد و شمار ہیں یا عوام کا عملی تجربہ۔حکومت اپنا تیسرا بجٹ پیش کرنے کی تیاریوں میں ہے ۔ اگرچہ معیشت کے مجموعی اشاریے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں، آئی ایم ایف کا پروگرام بھی درست چل رہا ہے اور حکومت کے پاس معاشی انتظام کاری کی کارکردگی پر فخر کرنے کے لیے قابلِ دفاع ریکارڈ موجود ہے ، اسکے باوجود ملک میں عمومی رائے یہ ہے کہ معیشت چل نہیں پا رہی۔یہ کسی بحال ہوتی معیشت کی تصویر نہیں بلکہ ایک ایسی معیشت کی عکاس ہے جسے استحکام تو حاصل ہوا ہے ، مگر وہ جمود کا شکار ہے ۔

اطلاعات ہیں کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کو محدود ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے لیکن اس رعایت سے محصولات میں کمی آئے گی۔ اس خلا کو پورا کرنے کے لیے بجٹ ساز دیگر شعبوں پر بوجھ بڑھا سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حکمرانوں کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کو بہترین حکمتِ عملی سمجھنا ہی معیشت کو جمود کی طرف دھکیل رہا ہے ۔ملک میں شدید مہنگائی کے پیشِ نظر ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد تک اضافہ متوقع ہے ، لیکن ملک کی مالی پوزیشن کی وجہ سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کے پاس مالی گنجائش کم ہے ۔ عام آدمی کو نئے بجٹ میں سہولتیں دینے کی بجائے مزید بوجھ پڑنے کے خدشات موجود ہیں، اسی لیے حکومت اس کا ملبہ آئی ایم ایف پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

یہ بات واضح نظر آ رہی ہے کہ آئی ایم ایف کی نگرانی میں بننے والا بجٹ توقعات سے زیادہ سخت ہوگا، لیکن آئی ایم ایف مسائل زدہ یا مہنگائی سے متاثرہ عوام کو جواب دہ نہیں ہوگا۔ اصل دباؤ تو حکومت پر ہی آئے گا۔معاشی اشاریوں میں بہتری اسی وقت سیاسی فائدہ دیتی ہے جب اسکے اثرات عام آدمی کی زندگی میں واضح طور پر محسوس ہوں لیکن حکومتی معاملات اور معاشی حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس عوام کے لیے ریلیف کی زیادہ گنجائش نہیں۔عوام بجٹ سے کچھ نہ کچھ ریلیف، روزگار کے مواقع یا مہنگائی میں کمی کی توقع ضرور رکھ سکتے ہیں،وزیراعظم شہباز شریف ہمیشہ سے یہ کہتے آئے ہیں کہ بوجھ عوام کے بجائے اشرافیہ پر ڈالا جائے لیکن ملک میں جاری نظام اور اشرافیہ کی مضبوط گرفت کے باعث بوجھ ہمیشہ عوام پر ہی پڑا ہے جبکہ حکمران طبقے اور اشرافیہ کی عیاشیوں پر قدغن لگانا ہمیشہ مشکل اور ناممکن سا عمل ثابت ہوا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں