لاہور ہائیکورٹ:بجلی ،گیس لوڈشیڈنگ کیخلاف درخواست مسترد
توانائی بحران کا حل عدالتی احکامات سے نہیں ،موثر پالیسی سازی سے نکلے گا عدالتی وقت ضائع کرنے اورمتعلقہ فورم نہ جانے پر درخواست گزار کو جرمانہ
لاہور (محمد اشفاق سے )لاہور ہائیکورٹ نے بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق درخواست کو جھوٹی بے بنیاد، غیر مستند اور مبہم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جسٹس خالد اسحاق نے عدالتی وقت ضائع کرنے اور متعلقہ فورم سے رجوع کئے بغیر درخواست دائر کرنے پر جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کو ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا،جسٹس خالد اسحاق نے قرار دیاکہ مفادِ عامہ کے نام پر شہرت کی خواہش یا بدنیتی نہیں ہونی چاہیے ،ہائیکورٹ کا فرض ہے کہ ایسی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ انصاف کا راستہ آلودہ نہ ہو۔
جسٹس خالد اسحاق نے 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا،فیصلے میں لکھا کہ جوڈیشل ایکٹیوزم پینل نے توانائی بحران کے حوالے سے مفادِ عامہ کی آئینی درخواست دائر کی تھی ،درخواست گزار کے پاس نیپرا ایکٹ اور اوگرا آرڈیننس کے تحت داد رسی کے لیے متعلقہ فورمز موجود تھے درخواست گزار نے متعلقہ فورمز استعمال کیے بغیر براہ راست عدالت سے رجوع کیا، ٹھوس شواہد یا قانونی بنیاد پیش نہیں کر سکا،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ توانائی بحران جیسے پیچیدہ مسائل کا حل عدالتی احکامات سے نہیں بلکہ متعلقہ اداروں اور مو ثر پالیسی سازی سے نکلے گا، مفادِ عامہ کی درخواستیں ایک اہم قانونی ہتھیار ہیں جنہیں انتہائی احتیاط سے استعمال کیا جانا چاہیے ۔