آئینی اصلاحات اسمبلی کا ختیار، جمہوری عمل پر سمجھوتہ نہیں ہوگا ،مظفرآباد اے پی سی

 آئینی اصلاحات اسمبلی کا ختیار،  جمہوری عمل پر سمجھوتہ نہیں ہوگا ،مظفرآباد اے پی سی

مہاجرین کی نمائندگی تاریخی حقیقت، انتخابی پیچید گیاں آئینی و قانونی اصلاحات سے دور کی جاسکتی ہیں انتخابی عمل سبوتاژ، مؤخر کرنے والوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی ، کانفرنس اعلامیہ جاری

 مظفرآباد (دنیا نیوز، اے پی پی ) آزاد جموں و کشمیر میں جمہوری عمل، آئینی تسلسل اور ریاستی استحکام کے حق میں آل پارٹیز کانفرنس وزیراعظم ہاؤس مظفرآباد میں منعقد ہوئی ، اجلاس میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی جانب سے پیش کردہ قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی ،قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آئینی اصلاحات منتخب قانون ساز اسمبلی کا اختیار ہے ،تمام مسائل کا حل مکالمے ، قانون، آئین اور جمہوری اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہے ، قرارداد میں مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، حریت قیادت کی نظر بندی اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی گئی۔

آل پارٹیز کانفرنس کے بعد جاری اعلامیہ میں آزاد کشمیر میں جمہوری تسلسل، آئینی عمل اور ریاستی اداروں کے استحکام کو ریاست کے لئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ، تاہم ادارہ جاتی نظام کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ،شرکاء نے تمام سیاسی و سماجی حلقوں پر زور دیا کہ وہ برداشت، مکالمے اور پرامن سیاسی جدوجہد کو فروغ دیں۔اے پی سی نے واضح کیا کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ مدت میں ہوں گے اس کیلئے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور سکیورٹی اقدامات کئے جائیں گے ۔یہ اجلاس اس بات پر زور دیتا ہے کہ سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے ، تاہم اسے ریاستی نظم و نسق یا ادارہ جاتی عمل کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انتخابی عمل کو سبوتاژ، مؤخر یا متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ آزادانہ، منصفانہ، شفاف، غیر جانبدارانہ اور پر امن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور سکیورٹی اقدامات بروئے کار لائے جائیں تاکہ عوام بلا خوف و خطر، دبائو یا مداخلت کے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں۔ انتخابی عمل کو سبوتاژ ، یا پٹڑی سے اتارنے کی کسی بھی کوشش کا قانون کے مطابق سختی سے سدباب کیا جائے گا تاکہ جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رہے ۔ اجلاس میں مہاجرین جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کشمیر اور تحریک تکمیل پاکستان کے لئے دی گئی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی نمائندگی کو ایک تاریخی اور آئینی حقیقت قرار دیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ مہاجرین کی نمائندگی سے متعلق بعض انتخابی پیچیدگیوں کو آئینی و قانونی اصلاحات کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے اس ضمن میں سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں