تیزاب گردی سنگین جرم، عام شہریوں کو فروخت پر پابندی لگائی جائے : سپریم کورٹ
حکومت متاثرین کومعذور افراد کے کوٹے میں شامل،قومی بحالی فنڈ قائم اورماہانہ مالی معاونت کانظام بنائے ہائیکورٹس تیزاب گردی کیسزکا4ماہ میں ٹرائل مکمل کریں:فیصلہ، عمرقیدکے مجرم عبدالمنان کی اپیل مسترد
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے تیزاب گردی کے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ دے دیا، سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ہائی کورٹس تیزاب گردی کے کیسز کا ٹرائل ہرصورت 4 ماہ میں مکمل کریں عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے ، حکومت تیزاب کے متاثرین کے لیے "قومی بحالی فنڈ"قائم کرے ۔14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے تحریر کیاہے ،سپریم کورٹ نے قراردیا کہ تیزاب گردی ایک ایسا سنگین جرم ہے جو بعض صورتوں میں قتل سے بھی زیادہ اذیت ناک نتائج کا باعث بنتا ہے اس لیے متاثرین کی مکمل طبی، نفسیاتی، سماجی اور معاشی بحالی کو یقینی بنانا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے ،عدالت نے فیصل آبادکی رہائشی متاثرہ خاتون اقراپروین کو 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
فیصلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو متعدد اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ تیزاب گردی کے متاثرین کو معذور افراد کے کوٹے میں شامل کیا جائے تاکہ انہیں روزگار، تعلیم اور دیگر سماجی سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے ۔عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو قومی بحالی فنڈ کے قیام کے لیے قانون سازی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہامتاثرین کے علاج، پلاسٹک سرجری، خصوصی فزیکل تھراپی اور دیگر طبی ضروریات کے لیے مستقل بنیادوں پر فنڈز مختص کیے جائیں۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ تیزاب گردی کے متاثرین صرف جسمانی نہیں بلکہ شدید نفسیاتی اور سماجی مسائل کا بھی سامنا کرتے ہیں، لہٰذا حکومتیں ان کی "سوشل ڈیتھ"سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی معاونت، سماجی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے جامع پروگرام تشکیل دیں۔عدالت نے ہدایت کی کہ متاثرین کے معاشی تحفظ کے لیے مناسب ماہانہ معاوضے یا مالی معاونت کا نظام وضع کیا جائے۔