احتجاج کیس: علیمہ دیگر کیخلاف سماعت آخری مراحل میں داخل
وکیل صفائی کی دو گواہوں پر دوبارہ جرح مکمل ،مزید گواہ پیش کرنے کی استدعا عمران خان آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کیلئے جیل میں ہیں،علیمہ خان کی گفتگو
راولپنڈی (خبرنگار)انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی میں علیمہ خان سمیت 10 ملز موں کے خلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمہ کی سماعت آخری مر احل میں داخل ہو گئی ،مقدمہ میں نامزد 9 ملز موں نے 342 کا سوالنامہ وصول کرلیا جبکہ علیمہ خان نے 342 کا بیان وصول کرنے کیلئے عدالت سے 16 جون تک مہلت مانگ لی،اے ٹی سی میں سماعت کے موقع پر پراسیکیوشن نے شہادت اور شواہد کی حد تک عدالتی کارروائی مکمل کرلی ، وکیل صفائی نے استغاثہ کے دو گواہوں تفتیشی افسر راجہ افتخار اور ڈپٹی ڈائریکٹر پیمرا نادر خان پر دوبارہ جرح مکمل کرلی، مقدمہ میں مجموعی طور پر 18 گواہوں کے بیانات ریکارڈ اور ان پر جرح مکمل کر لی گئی ہے ۔
دوران سماعت وکیل صفائی نے اپنے دفاع میں عدالتی گواہ پیش کرنے کی استدعا کی، عدالت نے درخواست اور فہرست جمع کرانے کی ہدایت کر دی،دریں اثنا سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ کوئی کیس ثبوتوں کے بغیر عدالت پہنچ ہی نہیں سکتا، دنیا میں جھوٹے کیسز بنانے پر لوگوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے ، عمران خان آزاد عدلیہ اور رول آف لا کیلئے جیل میں ہیں، عدلیہ اور ججز ہی ظلم کے خلاف عوام کو تحفظ دے سکتے ہیں، عدالتوں میں کیسز بھی ان کے خلاف چل رہے ہیں جن پر خود ظلم ہوا ہے ،انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک حساس علاقہ ہے ،کشمیر کا کیس اقوام متحدہ میں ہے ، اقوام متحدہ کی قرارداد میں کہا گیا ہے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ہے ، کشمیریوں کے ساتھ ظلم نہ کریں اس کا فائدہ ہندوستان اٹھائے گا ۔