پاور سیکٹر بحران میں شدت ، گردشی قرضہ 1840ارب ہوگیا
بینک فنانسنگ کے باوجود بھی مسئلہ حل نہ ہو سکا، صارفین پر بوجھ برقرار مستقبل قریب میں بھی مسئلے کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آ رہے :ماہرین
لاہور (زاہد عابد) پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ حکومتی کوششوں کے باوجود کم نہ ہو سکا اور دوبارہ بڑھ کر 1840 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ بینکوں سے قرض لینے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو سکا جبکہ بجلی صارفین اب بھی اس بوجھ کو برداشت کر رہے ، صارفین گردشی قرض اور بینکوں کے قرضوں کے لیے ہر ماہ بجلی بلوں میں 3 روپے 43 پیسے فی یونٹ ایف سی سرچارج ادا کر رہے ہیں۔پاور سیکٹر میں گردشی قرض کا مسئلہ 2006-07 میں شروع ہوا۔ 2006 میں گردشی قرض 48 ارب روپے تھا جو 2007 میں بڑھ کر 104 ارب روپے تک پہنچ گیا۔جون 2024 تک 2390 ارب روپے تک جا پہنچا، 2025 میں حکومت نے 18 بینکوں سے 1275 ارب روپے کی اسلامی فنانسنگ حاصل کی، مارچ 2025 میں قرض کم ہو کر 1630 ارب روپے رہ گیا۔