امریکا ، ایران مفاہمت نامے پر الیکٹرانک دستخط ، آبنائے ہرمز کھل گئی : جمعہ کو جنیوا میں باضابطہ تقریب میز بان پاکستان ، شہباز شریف ، معاہدے کا مسودہ جلد سامنے آجائیگا : ٹرمپ

 امریکا ، ایران مفاہمت نامے پر الیکٹرانک دستخط ، آبنائے ہرمز کھل گئی : جمعہ کو جنیوا میں باضابطہ تقریب میز بان پاکستان ، شہباز شریف ، معاہدے کا مسودہ جلد سامنے آجائیگا : ٹرمپ

ٹرمپ،وینس،قالیباف کے دستخط ،ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر متفق،سخت نگرانی سے عملدرآمد یقینی بنائینگے :امریکی صدر،ایران کی جیت :پزشکیان،افزودہ یورینیم غیرفعال کی جائیگی، 20ممالک بحری آمدورفت بحالی کی کوششوں کی قیادت کرینگے :میکخواں یہ مکالمے کی طاقت کی فتح ،فیلڈ مارشل کا غیر معمولی کردار،عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی تک پہنچائیں گے :وزیراعظم ،پنڈی اسلام آباد میں اتنا تعاون پہلے ہوتا تو کئی عالمی اعزاز مل چکے ہوتے :خواجہ آصف،پاکستان نوبیل امن انعام کاحق دار:ایاز صادق

پیرس (نیوز ایجنسیاں )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ابتدائی یادداشت پر دستخط کر دئیے ہیں۔ معاہدے پر باقاعدہ اور حتمی دستخط جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں ایک تقریب کے دوران کیے جائیں گے ۔فرانس میں صدر ایمانوئل میکخواں کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ مکمل طور پر طے پا چکا ہے ۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بحری آمدورفت کیلئے کھول دیا گیا ہے ، جبکہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں معاہدے پر دستخط ہوتے ہی یہ اہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر بحال کر دی جائے گی۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق معاہدے پر گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے دستخط کیے ۔ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل طور پر بحری آمدورفت کیلئے کھول دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے ، جبکہ اس شرط پر عملدرآمد کو سخت نگرانی کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کا متن بہت جلد جاری کر دیا جائے گا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا کہ فرانس، برطانیہ اور تقریباً 20 دیگر ممالک آبنائے ہرمز کی بحالی اور بحری آمدورفت کو دوبارہ معمول پر لانے کیلئے مشترکہ بحری اور سمندری کوششوں کی قیادت کریں گے ۔ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے مثبت اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ایرانی قیادت کے تیسرے گروپ کے ساتھ تعلقات خوشگوار رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں اچھے تعلقات قائم ہوں گے ۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر کو عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کی نگرانی میں غیر فعال یا ہلکا (Dilute) کیا جائے گا۔معاہدے میں لبنان میں بھی جنگ بندی شامل ہے ، جس کا لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے قتل و غارتگری کا خاتمہ ہوگا۔ تاہم اسرائیلی فورسز کی جانب سے حالیہ حملوں کے باعث لبنانی عوام میں اب بھی کچھ شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

حزب اللہ نے ایران کو مبارکباد دی ہے لیکن اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس معاہدے کو ایران کی تاریخی مزاحمت کی جیت اور خطے کیلئے ایک اعزاز قرار دیا ہے ۔ ایران کے مطالبات میں منجمد اثاثوں کی بحالی (جو کہ تقریباً 100 ارب ڈالر سے زائد ہیں) اور جنگی نقصانات کا معاوضہ شامل ہیں۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ یہ مذاکرات باہمی بے اعتمادی کے سائے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ معاہدے کی خبر سامنے آتے ہی ایشیائی اور امریکی سٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی ہے ۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان، کویت اور متحدہ عرب امارات نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے استحکام کیلئے دانشمندی کی جیت قرار دیا ہے ۔امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاہدے کی مکمل اور تفصیلی دستاویزات اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں عام کر دی جائیں گی، جس کے بعد پائیدار امن کے حوالے سے صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔

اسلام آباد(اپنے رپورٹرسے )وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایران، امریکا تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ 19 جون کو جنیوا میں پاکستان کی میزبانی میں ہوگی ،یہ صرف دو ممالک کے درمیان ایک معاہدہ نہیں بلکہ امن اور مکالمے کی طاقت کی فتح اور سفارتکاری کی کامیابی ہے ، اس امن معاہدے کے نتیجے میں عالمی معاشی استحکام کے ثمرات اپنی اجتماعی کاوش اور صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے ہر پاکستانی تک پہنچائیں گے ،اس جنگ کے شعلے بجھانے اور امن کے قیام کیلئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے غیر معمولی کردار ادا کیا،انہوں نے جنگ کے شعلے بجھانے اور امن کے قیام کیلئے شب و روز ایک کر دئیے ،شہباز شریف نے کہا یہ بات میرے ذاتی علم میں ہے کہ مذاکرات کے اِس عمل کے دوران کئی نشیب وفراز آئے اور یوں لگتا تھا کہ معاملہ ختم ہونے کو ہے ، مگر پاکستان کے اس عظیم سپوت نے ہمت نہیں ہاری اور اﷲ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ مسلسل کاوشیں کرتے رہے ،جس کے نتیجے میں کل رات کو جنگ بندی کا باضابطہ اعلان ہوا۔ اگر خلوص، استقامت اور دانشمندی کا یہ سفر جاری نہ رہتا، تو شاید دنیا میں امن کا خواب بکھر جاتا اور نجانے جنگ کے شعلے اور کتنی تباہی لے کر آتے ۔ مجھ سمیت پوری قوم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو بھی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جنہوں نے شبانہ روز محنت کے ذریعے امن کے اِس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بھرپورکردار ادا کیا،جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے اس دوران نہایت ذمہ داری کے ساتھ اہم امور سرانجام دئیے ۔وزیراعظم نے کہا مذاکرات کے اس کٹھن اور صبر آزما عمل میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے بھرپور تعاون کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے نہایت مثبت کردار ادا کیا۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر طیب ایردوان کی دور اندیش قیادت اور بھرپور تعاون کا تہ دل سے شکر گزار ہوں۔وزیراعظم نے پاکستان کے عظیم دوست چین کے صدر شی جن پنگ کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے میں قابل ِ قدر تعاون فراہم کیا اور پاکستان کے ساتھ بھرپورمشاورت کی۔شہباز شریف نے کہا اسی طرح دنیا کے بے شمار ممالک کا بھی اس تاریخ ساز دن کے موقع پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔وزیر اعظم نے کہا آیئے ہم سب ملکر اﷲ کے حضور سجدہ شکر بجا لائیں جس نے اپنی کمال مہربانی سے ہمیں یہ عظیم دن دکھایا۔ قبل ازیں شہبازشریف جب قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہنچے تواراکین اسمبلی نے کھڑے ہوکراورڈیسک بجاکران کاااستقبال کیا اور ایوان پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا ، قومی اسمبلی کی گیلری میں ایرانی سفیربھی اپنے وفد کے ہمراہ موجود تھے۔

سپیکرقومی اسمبلی ایازصادق نے کہا تیسری عالمی جنگ کوروکنے کااعزاز پاکستان کے حصے میں آیا ہے ، پاکستان نوبیل امن انعام کاحق دارہے ۔ سپیکر نے مہمانوں کی گیلری میں دوست ممالک کے سفیروں کوخوش آمدید کہتے ہوئے کہاپاکستان میں ایران کے سفیررضا امیری مقدم یہاں ایک معروف شخصیت ہیں ،ہم سب سے ان کا تعلق بھی ہے اور اس اس سارے معاملے میں ان کی کوششیں بہت ہی قابل ستائش ہیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں کہا سفارتی محاذ پر پاکستان سرخرو ہوا ہے ، آج سے پہلے بھی اگر پنڈی اور اسلام آباد میں اتنا تعاون ہوتا تو پاکستان کو کئی بین الاقوامی اعزاز مل چکے ہوتے ، وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امن عمل کو کامیاب بنانے کیلئے دن رات کام کیا،تین سال سے پاکستان کی کامیابی کی کوششوں کاسب سے بڑا پھل اللہ تعالیٰ نے آج عطا کیا ہے ، جلد فلسطین کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں