بجٹ میں عوام کیلئے کچھ نہیں ، مشکل حالات میں متوازن ہے: سینیٹ میں بحث
بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا ، کس ارسطو نے کہا 280 روپے روزانہ کمانیوالا غریب نہیں:اپوزیشن لیڈر کی تقریر فی کس آمدن بڑھی :سینیٹر افنان ،ٹیکس نیٹ بڑھاناچاہیے :شیری ،ہیلی کاپٹر حادثہ میں جاں بحق مسیحی جوانوں کیلئے خاموشی
اسلام آباد(اپنے رپورٹرسے ،نیوز ایجنسیاں) سینیٹ میں اپوزیشن ار کان نے بجٹ کو عوام دشمن اور غریب مکائو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا جبکہ حکومتی اراکین نے بجٹ کو متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیشت درست سمت کی جانب گامزن ہے ۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ کس ارسطو نے کہا 280 روپے روزانہ کمانے والا غریب نہیں، اس حساب سے بھی 7 کروڑ عوام غریب ہے ، اس سال 2 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے آ گئے ، یہ بجٹ ہمارے ملک کو مزید غلام بنا رہا ہے ’ اس بجٹ میں عوام کیلئے کچھ بھی نہیں ’ حکومت نے مسلسل پانچواں بجٹ دیا ہے مگر ان پانچ سالوں میں ملکی قرضوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ۔ یہ ملک اتنا مقروض کیوں ہے کہ ہم 800ارب روپے کا قرضوں پر سود ادا کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ابھی بجٹ منظور بھی نہیں ہوا ہے مگر ملک میں مہنگائی بڑھنی شروع ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے اس وقت ملک میں سیاستدان بننا جرم ہے بانی پی ٹی آئی سمیت اہم سیاستدان ناکردہ گناہوں کی وجہ سے جیلوں میں ہیں،ملک کے عوام کی امیدیں ختم ہوچکی ہیں اور حکومت پر اعتماد نہیں رہا۔
انہوں نے حکومت نے خطے میں جنگ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا جس کو سراہتے ہیں ۔پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ اگر اس بجٹ میں کچھ بھی بہتر ہوتا تو میں ضرور تعریف کرتا ۔ملکی معیشت زوال کا شکار ہے ،عالمی کمپنیاں پاکستان کو چھوڑ کر جارہی ہیں ،ہمارے پڑوسی ممالک کی معیشت آگے بڑھ رہی ہے مگر پاکستان کی معیشت زوال کی جانب جارہی ہے ہم آگے کی جانب نہیں بلکہ پیچھے کی سمت جارہے ہیں ۔ 1400ا رب حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے لیا ہے اور اگلے سال 1700ارب روپے لینے کی منصوبہ بندی ہے ، اگر ملک کو آگے کی سمت لیکر جانا ہے تو سیاسی استحکام لانا ضروری ہے ،پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ موجودہ بجٹ پر حکومت کو مبارکباد پیش کرتی ہوں یہ ایک متوازن بجٹ ہے جو مشکل حالات میں دیا گیا انہوں نے کہاکہ حکومت کو امریکہ ایران جنگ روکنے پر بھی مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو ٹیکس نیٹ ورک میں اضافہ کرنا چاہیے ۔سینیٹر شہادت اعوان نے کہاکہ ملکی حالات کے تناظر میں موجودہ بجٹ کو متوازن کہا جاسکتا ہے تاہم یہ عوامی بجٹ نہیں ہے ۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہاکہ بجٹ میں غریب عوام کیلئے کچھ بھی نہیں ،ملک میں مہنگائی عروج پر ہے ،18ویں ترمیم کے باوجود صو بوں کو ان کے اختیارات نہیں دئیے جارہے ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں 2کروڑ 70لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور ایک کروڑ بچے پرائمری کے بعد سکول نہیں جاتے۔ جے یو آئی کے سینیٹردلاور خان نے کہاکہ ملک معیشت زبوں حالی کا شکار ہیں ۔ سینیٹر افنان اﷲ نے کہا ہے کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں متوازن بجٹ پیش کیا ، اقتصادی اشاریوں میں بہتری ملک کے درست سمت میں گامزن ہونے کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی پیش رفت میں پاکستان کے مثبت سفارتی کردار کا اہم حصہ ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ٹیکس نظام میں مزید اصلاحات کے ذریعے خسارے کو مزید کم کیا جائے گا۔ فی کس آمدنی 1547 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ۔ مہنگائی کی شرح 29.2 فیصد سے کم ہو کر 7.6 فیصد پر آ گئی جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر سرمد علی نے کہا ہے کہ بجٹ میں ملازمتوں کے مواقع فراہمی کیلئے اقدامات کئے جائیں، عام آدمی کو ریلیف دیا جائے ۔ تنخواہوں اور کم سے کم اجرت میں مزید اضافہ کیا جائے ۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ناصر بٹ نے حکومت کی معاشی، سفارتی اور دفاعی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست کے طور پر اپنا مقام مستحکم کر رہا ہے جبکہ اپوزیشن ملکی مفادات پر سیاست کر رہی ہے ۔ اے این پی کے سربراہ ایمل ولی خان نے کہا کہ آئی ایم ایف سے تیار شدہ بجٹ آیا ہے ، اس میں آپ ذرا تبدیلی نہیں کرسکتے ۔مسلم لیگ ن کو جب اقتدار ملتا ہے ان کے رویے بدل جاتے ہیں۔ موجودہ بجٹ پاکستانی عوام کیساتھ مذاق ہے ، بجٹ میں ٹیکس اور قرض کے علاوہ کیا ہے ۔ علاوہ ازیں سینیٹ میں مظفر آباد ہیلی کاپٹر حادثہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج کے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے 2 جوانوں کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔بعدازاں سینیٹ کا اجلاس آج دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔