پٹرول74.28ڈیزل67.31روپے لٹر سستا:قوم سے وعدہ پورا کر رہے ہیں مہنگائی میں مزید کمی کیلئے اقدامات جاری رکھیں گے:شہباز شریف

پٹرول74.28ڈیزل67.31روپے  لٹر  سستا:قوم  سے وعدہ پورا  کر رہے ہیں مہنگائی  میں  مزید  کمی  کیلئے  اقدامات جاری  رکھیں گے:شہباز شریف

پٹرول کی نئی قیمت 299 روپے 50 پیسے ، ڈیزل کی 311 روپے 47 پیسے لٹر مقرر،پٹرول پر لیوی کی شرح 40 روپے 49 پیسے کم،ڈیزل پر 19 روپے 71 پیسے بڑھا دی ،مٹی کاتیل 48 روپے 29 پیسے سستا امن معاہدے پر قومی اسمبلی میں قرارداد منظور،فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کلیدی کردار،اپوزیشن ارکان سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ کر دنیا کو بتائیں قومی مفادات کیلئے ہم ایک ہیں اور رہیں گے :وزیراعظم

اسلام آباد(ذیشان یوسفزئی،سٹاف رپورٹر، اپنے رپورٹر سے ،نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا پاکستان کی ثالثی کی بدولت خطے و عالمی امن کے قیام کے بعد معاشی صورتحال میں بہتری آنے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام کی جانب منتقل کررہے ہیں،جو وعدہ قوم سے کیا تھا، الحمدللہ وہ پورا کرنے جا رہے ہیں، پٹرول کی قیمت میں 74روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے کمی کی جارہی ہے ، اس طرح پٹرول کی فی لٹر قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے پر آ جائے گی اور ڈیزل کی فی لٹر قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے پر آ جائے گی۔وزیراعظم کے اعلان کے بعد وزارت توانائی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 74 روپے 28 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے 31 پیسے کی کمی کی گئی ہے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق حالیہ کمی کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 299 روپے 50 پیسے جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 311 روپے 47 پیسے فی لٹر ہوگئی۔مٹی کاتیل 48 روپے 29 پیسے سستا کردیا گیا ،جس سے اس کی قیمت 282 روپے 19پیسے سے کم ہوکر 233 روپے 90 پیسے فی لٹر ہوگئی،وزارت توانائی کے مطابق قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے اگلے ایک ہفتے کیلئے ہوگیا۔ دوسری طرف پٹرول اور ڈیزل پر لیوی کی شرح میں بھی تبدیلی کر دی گئی۔

ذرائع کے مطابق پٹرول پر لیوی کی شرح میں 40 روپے 49 پیسے لٹر کمی کی گئی۔ پٹرول پر پہلے سے عائد لیوی 106 روپے 74 پیسے فی لٹر تھی جو کم کر کے 66 روپے 25 پیسے کر دی گئی۔ڈیزل پر لیوی 19 روپے 71 پیسے فی لٹر بڑھا دی گئی ہے ۔ ڈیزل پر پہلے سے عائد لیوی کی شرح 53 روپے 26 پیسے فی لٹر تھی جو بڑھا کر 72 روپے 97 پیسے فی لٹر کر دی گئی۔قبل ازیں اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، آپ نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ ان مشکل حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔ اس بحران کے آغاز سے ہی ہم نے اپنے وسائل سے تیل کی قیمتوں میں جس قدر ہو سکا کمی لانے کی کوشش کی۔ وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ سے اور کفایت شعاری سے کی گئی بچت کے ذریعے 129 ارب استعمال کرکے ، ملک بھر کے عوام کو تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ خطے کی معاشی صورتحال کے دوران جب کچھ ممالک میں فیول راشننگ جیسے اقدامات کیے جا رہے تھے ، حکومت پاکستان کی بہتر منصوبہ بندی کی بدولت توانائی کا بحران نہیں آیا۔ موثر اقدامات کی بدولت، نہ کوئی لائن لگی، نہ لمبی قطاریں لگیں، اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کی پٹرولیم مصنوعات کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کیلئے وفاق اور صوبوں نے مکمل تعاون کیا جس کیلئے میں صوبائی وزرائے اعلیٰ کا شکر گزار ہوں۔ جس قدر ممکن ہوا عوام کو عالمی مہنگائی کی لہر سے محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات اٹھائے ۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جو کمی آئے گی وہ من و عن عوام کو منتقل کررہے ہیں۔ معاشی استحکام برقرار رکھنے اور مہنگائی میں مزید کمی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ بحران کے پورے عرصے میں نہ صرف حکومتی سطح پر کفایت شعاری کو اپنایا گیا بلکہ ریلیف کی مد میں محروم طبقات کو سبسڈی بھی فراہم کی گئی۔ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ اللہ کے فضل سے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں پاکستان کی ثالثی کی بدولت امن ممکن ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت بخشی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ، جو ایک تاریخی دستاویز ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے یہ عزت و اکرام اپنی کمال مہربانی سے تمام پاکستانیوں کو عطا فرمایا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں جن کی انتھک محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بدولت یہ امن معاہدہ ممکن ہوا۔انہوں نے کہاکہ نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور حکومت پاکستان کی پوری ٹیم جو امن کی ان کوششوں میں خلوص نیت کے ساتھ سرگرم عمل رہی، کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ معاشی ٹیم، جن میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری پٹرولیم اور چیئرمین ایف بی آر شامل ہیں، نے معاشی بحران میں قابل قدر کوششیں کیں، جو قابل ستائش ہیں۔قبل ازیں وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا یہ عزت اور وقار قوموں کو صدیوں میں نہیں ملتی ہمیں اس عزت پر اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہئے اور اس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے ۔

اس ایوان سے قومی یکجہتی اور اتحاد کا پیغام جانا چاہئے تاکہ ہمارے دشمن ہکا بکارہ جائیں اور دوستوں کی ہمت بڑھے ، قومی وحدت کیلئے ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے ،یہ عظیم کامیابی اس بات کی متقاضی ہے کہ اس عظیم فتح کیلئے ہم سب اکٹھے ہوں اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ایک صف میں کھڑے ہوں۔انہوں نے اپوزیشن کو بھی دعوت دی کہ وہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مل کر اس مبارک دن اللہ کا شکر ادا کریں اور دنیا کو بتائیں کہ سیاسی اختلافات کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کیلئے ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ روز ان کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے آدھا گھنٹہ ٹیلیفون پر بات ہوئی جس میں انہوں نے پاکستان اور پاکستان کے عوام کا ایران کی حکومت اور ایرانی قوم کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں ایران کا ساتھ دیا اور پاکستان ایران کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا۔ ایرانی صدر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستانی قوم کے خلوص اور سپورٹ کا بھی شکریہ ادا کیا۔ میں نے انہیں دورہ پاکستان کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ قوم آپ کا پاکستان میں والہانہ استقبال کرنے کیلئے منتظر ہے تاکہ دنیا کو یہ بتایا جا سکے کہ ایران اور پاکستان صرف ہمسایہ ملک نہیں بلکہ برادر ملک ہیں اور ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔

ایرانی صدر نے پہلی فرصت میں پاکستان آنے کا عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان آ کر وہاں کے عوام کا شکریہ ادا کرینگے ۔ اس موقع پر انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین جو 3 یا 4 جولائی کو ہونی ہے اس میں شرکت کی دعوت دی ہے جس پر انہیں کہا ہے کہ یہ ہمارا فرض ہے اور ان شاء اللہ وہاں پر پاکستان موجود ہو گا تاکہ ہم دنیا کو بتا سکیں کہ ان کیلئے ہمارے دلوں میں کتنا احترام ہے پاکستان اور ایران دو ایسے بھائی ہیں جو آنے والے وقتوں میں انتہائی قربت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے ۔وزیراعظم کے خطاب پر اپنے جواب میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا جس طرح وزیراعظم نے کہا کہ آج اختلافات کو ہوا دینے کا دن نہیں، اسی جذبے کے تحت تمام سیاسی قوتوں کو ملک کے وسیع تر مفاد میں آگے بڑھنا چاہیے ۔پاکستان کی فوج ہماری فوج ہے اور پاکستان کی ترقی ہم سب کی مشترکہ ترقی ہے ۔ پارلیمان کی طاقت،جمہوریت کے فروغ اورملکی ترقی کیلئے حکومت کوغیرمشروط معاونت فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔آخر اپوزیشن کو اتنا غیر اہم اور بے اختیار کیوں سمجھا جاتا ہے ۔

پارلیمنٹ کی وہ طاقت اور اختیار جو وقت کے ساتھ اس سے چھین لیا گیا ہے ، اسے واپس کیا جانا چاہیے ۔اپوزیشن رہنما نے مزید مطالبہ کیا کہ اقبال آفریدی پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے اور سیاسی کارکنوں و رہنما ئوں کے ساتھ امتیازی سلوک سے گریز کیا جائے ۔اس موقع پر وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کی طرف سے پیش کی گئی ایران امریکا معاہدے پر تہنیتی قرارداد متفقہ طورپر منظور کی گئی،جس میں کہا گیا کہ ایوان وزیرِ اعظم شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مذاکراتی عمل میں شامل پوری ٹیم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے ان کی مخلصانہ اور انتھک کاوشوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر نمایاں مقام دلایا۔ یہ معاہدہ خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔راجہ پرویز اشرف نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ ناکافی ہے اور اسے کم از کم دس فیصد تک بڑھایا جانا چاہیے ۔بعد ازاں سپیکر کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس آج 20 جون بروز ہفتہ صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں