آبنائے ہرمز کھلا رکھنے،لبنان میں جنگ بندی مؤثر بنانے پر اتفاق:پاکستانی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات میں زبردست پیشرفت ہوئی:وینس
سیاسی قیادت اور تکنیکی ٹیمیں آئندہ رابطوں کے فریم ورک پر بھی متفق ، چاروں فریق پیشرفت پرمطمئن :امریکی سفارتکار، ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایرانی وفد کا مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت اور ہاتھ ملانے سے انکار ، تعطل کے بعددوبارہ بات چیت وواپس روانگی قطر کا مذاکرات میں تسلسل کا خیرمقدم، پہلا دور 80 منٹ تک جاری رہا :ایرانی میڈیا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ایرانی و امریکی وفد کی الگ الگ ملاقات، ایران نے لبنان میں اپنی پراکسیز کو نہ روکا تو دوبارہ سخت حملہ کر ینگے :ٹرمپ، دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے :قالیباف
برگن سٹاک (نیوزایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک) سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اورقطر کی ثالثی میں ہونیوالے امریکا ،ایران مذاکرات کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد سپیکر ایرانی پارلیمان باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد واپس ایران روانہ ہو گیا۔ قبل ازیں ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی صدر کی دھمکیوں کے بعد ایرانی وفد نے امریکی وفد سے احتجاج کرتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت سے احتجاجاَ انکار کر دیا اور جاری تکنیکی مذاکرات تعطل کے بعددوبارہ ہوئے ۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی سفارتکار نے کہا ہے کہ ایران سے مذاکرات میں آبنائے ہرمز کھلا رکھنے پر اچھی پیشرفت ہوئی، بات چیت مثبت رہی، فریقین نے لبنان میں جنگ بندی موثر بنانے پر اتفاق کیا ہے ، امریکا نے واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا دیکھنا چاہتا ہے ۔
سیاسی قیادت اور تکنیکی ٹیموں کے درمیان آئندہ رابطوں کے فریم ورک پر بھی اتفاقِ ہوا۔ چاروں فریق پیش رفت پرمطمئن دکھائی دیئے ۔مذاکرات کے شریک ثالث قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان نے کہا کہ ان کا ملک امریکا اور ایران کے مذاکرات کے تسلسل کا خیرمقدم کرتا ہے ۔ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ ہم لوسرن لیک اجلاس کی کارروائی کے انعقاد اور سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کے جاری رہنے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ہم پاکستان سمیت ان تمام فریقین کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مفاہمت میں کردار ادا کیا اور ہم اس سلسلے میں مزید پیش رفت کے خواہاں ہیں۔مذاکرات کی میزبانی پر سوئٹزرلینڈ کے بھی مشکورہیں ۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکا اور ایران کی اعلیٰ سطح کمیٹیوں کے درمیان 80 منٹ تک تفصیلی بات چیت ہوئی، پہلے راؤنڈ میں لبنان کی صورتحال، آبنائے ہرمز، ایرانی جوہری ذخائر اور آئندہ 60 روزہ مذاکراتی عمل کے خدوخال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔برگن سٹاک کی لیک لوزن سمٹ کے کانفرنس ہال میں سب سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی داخل ہوئے ۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ کانفرنس پہنچے تو پاکستانی وفد نے ان کا استقبال کیا ، اس موقع پر قطری وزیراعظم بھی کانفرنس ہال میں پہنچے ۔
دوسری طرف سپیکر باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے کانفرنس ہال پہنچا ۔مذاکرات میں جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، وزیراعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل عاصم منیر، باقر قالیباف ، عباس عراقچی شریک ہوئے ۔ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی وفد سے ہاتھ بھی نہ ملایا اور پہلے سے طے شدہ فوٹو سیشن بھی نہیں کروایا، مذاکرات کے آغاز سے قبل اوربعد وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کردار کو دنیا بھر میں سراہا گیا، ‘ویری گُڈ، وی لو پاکستان ’، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک ’بہترین سپہ سالار‘ ہیں اوروہ شروع دن سے ہمارے ساتھ ہیں ،وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میرے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی دوست ہیں اوردونوں کاکردارلائق تحسین ہے ۔ جے ڈی وینس نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ان کی زندگی میں دو اہم شخصیات ہیں: ایک ان کی بھارتی نژاد اہلیہ، اور دوسرے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر۔انہوں نے مزیدکہاکہ میں نے 3 ماہ میں فیلڈمارشل عاصم منیرسے جتنی بات کی ہے شاید ہی کسی سے کی ہو، اگرفیلڈ مارشل کی حکمت عملی نہ ہوتی تو شاید ہم یہاں نہ ہوتے ۔
ہم مستقبل کے لیے مزید بہتر کام کرنا چاہتے ہیں اورایک نیامستقبل دیکھ رہے ہیں ، امن کے لیے ایران کے مثبت کردار کے خواہاں ہیں۔مشرق وسطیٰ میں قیام امن اولین ترجیح ہے اور لبنان کی صورتحال پر تشویش ہے ، ’ہم لبنان میں سیز فائر کو ہر صورت یقینی بنائیں گے ، امریکی صدر لبنان میں کشیدگی کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ہمیں متعدد مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کا اختیار دیا ہے ۔ایران عدم استحکام کو ہوا دینا ترک کر دے تو امریکا باہمی تعلقات میں بنیادی تبدیلی کے لیے تیار ہے ، اب ہم ایک ایسا مستقبل دیکھ رہے ہیں جہاں سب مل کر امن و خوشحالی کے لیے کام کریں، ٹرمپ نے ہمیں کہا ہے کہ ہم نئی شروعات کریں اور ایرانی عوام سے اپنے تعلقات بہتر بنائیں، آج امن، ترقی اور بحران کے خاتمے کے لیے عظیم دن ہے ، پچھلے چند گھنٹوں میں ہم نے زبردست پیشرفت کی ہے اور توقع ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ معاملات پر مثبت گفت و شنید کی ضرورت ہے ۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ صورتحال عالمی امن کے لیے ایک اہم موقع ہے اور تمام رہنما دنیا میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت میں امن مذاکرات ممکن ہوئے ، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ان مذاکرات کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مشترکہ کوششوں سے دنیا میں اتحاد، امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکتا ہے ۔ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے لیے فعال کردار ادا کیا، امید ہے کہ جب ہم اپنے اپنے ممالک واپس لوٹیں گے تو ہمارے پاس ایسی زبردست دستاویز ہو گی جو دنیا بھر میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کا باعث بنے گی ۔میڈیا سے غیررسمی گفتگو میں شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن پسند شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دونوں ممالک ایٹمی تصادم کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے ، صدر ٹرمپ نے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ اگر تنازع نہ روکا جاتا تو ایٹمی جنگ کے نتیجے میں بے شمار جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔ایرانی قیادت نے اس پورے بحران کو بڑی سنجیدگی اور بردباری سے سنبھالا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ ایرانی قیادت واقعی خطے میں امن کو فروغ دینا چاہتی ہے ۔دوسری جانب قطر کے وزیراعظم نے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ جشن کا موقع تو نہیں ہے ، لیکن اس کا آغاز تو ضرور ہو گیا ہے ، آج ہونے والی پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے ، قطر اُس وقت تک ثالثی جاری رکھے گا، جب تک امریکا اور ایران کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ جاتے ۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مذاکرات سے قبل ایرانی و امریکی وفد نے الگ الگ ملاقات کی ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ وفد میں جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف بھی موجود تھے ۔سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بغل گیر ہوئے ، ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ بعدازاں پاکستانی اور ایرانی وفد نے بھی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ملاقات کی ۔ایران کی جانب سے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے جبکہ ایرانی سپیکر قالیباف نے قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان سے بھی ملاقات کی ۔وزیراعظم شہباز شریف سے سوئٹزرلینڈ کے نائب صدر اور وزیر خارجہ مسٹر اِگنازیو کاسِس نے بھی مذاکرات کے موقع پر ملاقات کی اورپاکستان کے مؤثر ثالثی کردار کو سراہا ۔دوسری طرف ایران، امریکا مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر دھمکی دی کہ ایران لبنان میں اپنی پراکسیز کو فوری طور پر مشکلات پیدا کرنے سے روکے ۔ اگر ایران نے ایسا نہ کیا تو امریکا ایک بار پھر ایران کو سخت جواب دے گا۔ گزشتہ ہفتے کی طرح ایران کو دوبارہ نشانہ بنایا جائے گا، لیکن اس بار کارروائی پہلے سے زیادہ سخت ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو امریکا آبنائے ہرمز پر ٹول عائد کرنے پر غور کر سکتا ہے ۔
دریں اثنا ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا کہ ایران امریکی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتا، بہتر ہے وہ اپنے بیانات سے باز رہے ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ کیا وہ خود سے یہ نہیں سوچتے کہ اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر ہوتا تو آج وہ مایوسی کے اس مقام پر نہ پہنچتے ؟’ ‘ہم امریکیوں کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے ، بہتر ہے کہ وہ اپنے بیانات میں محتاط رہیں۔ ہماری مسلح افواج دوسرے طریقے سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ دعا ہے میں شہدا اور ایرانی قوم کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ میناب کے مظلوم بچوں اور شہیدوں کو اپنے کاموں کا گواہ سمجھتا ہوں، شہدا ہمیں دیکھ رہے ہیں اور انہیں ہم سے بہت امیدیں ہیں۔ دعا ہے عزت کے ساتھ اپنے ان دوستوں سے جاملوں جن کا بے صبری سے انتظار ہے ۔ دوسری طرف ایران کے پارلیمانی قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں اور بڑھکوں کی تاثیر اب ختم ہوچکی ہے ۔ ٹرمپ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر شکایت کر رہے ہیں اور دھمکا رہے ہیں، آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر اس کے محافظ فرشتے بن سکتے ہیں۔ آپ ایسا کرنا تو چاہتے تھے لیکن کر نہ سکے ۔ اگر آپ کے پاس صلاحیت ہوتی تو دوران جنگ ہرمز کا کنٹرول چند لمحوں کے لیے ہی سہی سنبھال لیتے ۔