پختونخوا کا بجٹ کاپی پیسٹ :اپوزیشن لیڈر، حکومتی ارکان کا احتجاج
189 منصوبوں کیلئے صرف ایک، ایک لاکھ،177 سکیموں کیلئے 10 ہزار مختص دو سال میں صوبائی قرضوں میں 175 ارب کا اضافہ ہوا ،ڈاکٹر عبا د اللہ کا خطاب
پشاور (اے پی پی)خیبرپختونخوا اسمبلی کے بجٹ سیشن میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداﷲ نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور بجٹ پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداﷲ نے کہا کہ پختونخوا کا بجٹ کاپی پیسٹ ہے ،گزشتہ 13 سال سے صوبہ ایک ہی حکومت کے زیرِ انتظام ہے جبکہ صرف دو سال میں قرضوں کا تخمینہ ایک ٹریلین روپے تک پہنچایا جا رہا ہے یہ قرضہ 66 سال میں بھی اتنا نہیں لیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ صوبے کا بجٹ مکمل طور پر وفاقی ٹرانسفرز پر انحصار کرتا ہے اور یہ 17واں بجٹ ہے جس پر وہ بات کر رہے ہیں۔ڈاکٹر عباداﷲ نے بجٹ کو کاپی پیسٹ بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 189 منصوبوں کے لیے صرف ایک، ایک لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ 177 سکیموں کے لیے محض 10 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں جو ان کے مطابق عملی طور پر نامکمل منصوبے ہیں۔ ڈاکٹر عباداﷲ نے کہا کہ دو سال میں صوبائی قرضوں میں 175 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ ماضی میں 66 سال میں مجموعی قرضہ 150 ارب روپے تھا ،اجلاس کے دوران حکومتی اراکین نے اپوزیشن لیڈر کی تقریر پر شور شرابا کیا جس پر سپیکر نے انہیں خاموش کراتے ہوئے کہا کہ قائدِ ایوان اور اپوزیشن لیڈر کو وقت کی پابندی کے بغیر بات کرنے کا حق حاصل ہے ۔ سابق وزیراعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عوام نے ووٹ دیا ہے ، مسائل کے حل کی ذمہ داری منتخب نمائندوں پر عائد ہوتی ہے ،اگر عوامی مسائل حل نہیں ہو رہے تو اس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے ۔