آزدکشمیرمیں شہید اہلکاروں کے ذمہ داروں کوسزاملے گی:ذرائع
مہرنگ لانگو مقدمہ سے واضح ہوگیااحتجاج کے نام پر اہلکاروں کے قتل کی اجازت نہیں ہجوم کو مشتعل کرنایا بعد میں ذمہ داری سے لاتعلقی جوابدہی سے بچنے کا راستہ نہیں
اسلام آباد (دنیا رپورٹ) مہرنگ لانگو کے مقدمے میں فیصلے نے واضح کر دیا کہ کسی بھی شخص، تنظیم یا تحریک کو احتجاج کے نام پر تشدد، اشتعال انگیزی اور ریاستی اہلکاروں کے قتل کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ریاست نے ثابت کیا کہ قتل اور دہشتگردی کے مقدمات کو پیشہ ورانہ انداز میں تفتیش، ناقابلِ تردید شواہد اور مکمل عدالتی عمل کے ذریعے آگے بڑھا کر ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ ذرائع نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد احتجاج کے دوران تین پولیس اہلکاروں اور ایک ایف سی اہلکار کی شہادت کو بھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور ملوث افراد، حملہ آوروں، منصوبہ سازوں اور اشتعال دلانے والوں کے کردار کا تعین شواہد اور قانون کے مطابق کیا جائے گا۔ جس طرح بلوچستان میں ایک سپاہی کے قتل پر عدالتی عمل منطقی انجام تک پہنچا اسی طرح آزاد کشمیر میں چار اہلکاروں کی شہادت کے ذمہ دار عناصر کو بھی تحقیقات، ثبوت اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے ذریعے جواب دہ بنایا جائے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ احتجاج کا حق آئین اور قانون کے دائرے میں محفوظ ہے لیکن قتل، مسلح حملہ، سرکاری تنصیبات پر یلغار اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا احتجاج نہیں بلکہ سنگین جرم ہے۔ کسی تنظیم کا سیاسی یا عوامی نام اسے قتل اور تشدد کی ذمہ داری سے استثنیٰ نہیں دے سکتا۔ قانون تنظیم کے نام کو نہیں فرد کے عمل اور دستیاب شواہد کو دیکھتا ہے ۔ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہجوم کو مشتعل کرنا، تشدد پر اکسانا یا بعد میں ذمہ داری سے لاتعلقی اختیار کرنا قانونی جواب دہی سے بچنے کا راستہ نہیں۔ ریاست قانون نافذ کرے گی۔ ہر ملزم کو دفاع کا حق دیا جائے گا لیکن ہر شہید کے خاندان کو انصاف بھی فراہم کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مہرنگ لانگو کا فیصلہ تمام پرتشدد گروہوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ عوامی حمایت کا دعویٰ، سیاسی نعرہ یا انسانی حقوق کا لبادہ کسی کو قتل اور دہشتگردی کے جرم سے محفوظ نہیں بنا سکتا۔ ریاست کی ذمہ داری صرف امن بحال کرنا نہیں، بلکہ ان خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا بھی ہے جن کے بیٹے فرض کی ادائیگی کے دوران شہید کیے گئے۔