تحفظ مانگنے والے پر مقدمہ ناقابل قبول :چیف جسٹس عالیہ نیلم
کیسے جرأت کی عدالت میں بلائے بغیر آنے کی؟ سی پی او گوجرانوالہ کی سخت سرزنش کیا اراضی کیس حل کرنا پولیس کا کام ہے ؟ عدالت،سی پی او کو انکوائری کا حکم دیدیا
لاہور(کورٹ رپورٹر )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے اراضی کے معاملات میں پولیس کی مداخلت کے خلاف کیس میں سی پی او گوجرانوالہکو انکوائری کرنے کاحکم دیدیا ،انہوں نے کہا کہ تحفظ مانگنے والے شخص کیخلاف مقدمہ درج کردینا ناقابل قبول ہے ، شہری شرافت علی کی درخواست پرسماعت کے دوران آر پی اوگوجرانوالہ خرم شہزاد، سی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹرغیاث گل سمیت دیگرافسر پیش ہوئے ،درخواست گزار نے نوشہرہ ورکاں میں 84 ایکڑ زمین ٹھیکے پر لی، بیرون ملک مقیم مالکان سے پندرہ سال کیلئے اراضی ٹھیکے پر لی ۔ مقامی بااثر افراد پولیس کے ذریعے درخواست گزار کو بے دخل کرنا چاہتے ہیں،درخواست گزار کی شکایات کے باوجود پولیس بااثر افراد کی حمایت کررہی ہے ، عدالت پولیس کو قبضے میں مداخلت سے روکنے کا حکم دے ،عدالت میں سی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر غیاث پیش ہوئے ، چیف جسٹس نے سی پی او گوجرانوالہ سے کہاکہ کیسے جرأت کی عدالت میں بلائے بغیر آنے کی؟ کیوں نہ آ ئی جی پنجاب کو طلب کیا جائے ؟ انہوں نے کہا کہ کیا آپ کو طلب کیا گیا ؟
کس نے آپ کو بتایاکہ آپ کو عدالت نے طلب کیا ،سرکاری وکیل نے بتایاکہ طلبی سے متعلق ایس ایچ او نے بتایا،سی پی او گوجرانوالہ عدالت کے سوالات کا جواب دینے میں ناکام رہے ،انہوں نے بتایاکہ میں نے دونوں فریقین کو سنا ، چیف جسٹس نے کہاکہ کیا اراضی کیس حل کرنا پولیس کا کام ہے ؟ سی پی او نے کہاکہ فریقین کھلی کچہری میں پیش ہوئے تھے ۔ چیف جسٹس نے سی پی او سے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کب جاری ہوااورمقدمہ کب درج کیاگیا؟ جس پر سی پی او نے بتایا کہ عدالتی حکم 17جون اورایف آئی آر18جون کودرج کی گئی،چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقدمہ درج کرنا تھا توعدالتی حکم سے پہلے کیوں نہیں کیاگیا؟ ایسے حالات میں آئی جی عبدالکریم کوبھی طلب کیاجا سکتا ہے ۔ سی پی او نے مو قف اختیار کیا کہ ایس ایچ او کو عدالتی حکم کا علم نہیں تھا، تاہم چیف جسٹس نے قراردیا کہ تحفظ مانگنے والے شخص کیخلاف مقدمہ درج کردینا ناقابل قبول ہے ۔عدالت نے سی پی او گوجرانوالہ کو ہدایت کی کہ وہ معاملے کی تحقیقات کرکے 6جولائی کو رپورٹ پیش کریں۔