ایران امریکا مذاکرات کا اگلامرحلہ سخت ہوگا:اسحاق ڈار
یورینیم باہر بھیجنے کے بجائے افزودگی کم کی جائیگی،خفیہ ڈیل نہیں ہوئی بعض معاملات کے حل کیلئے 30 دن کی مدت، حتمی معاہدہ قابل حصول
اسلام آباد(دنیا نیوز)نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا ایران کے برگن سٹاک مذاکرات چند روز قبل شروع ہو سکتے تھے ، ایران پر عائد پابندیاں فوری نہیں ہٹائی جائیں گی، مذاکرات کا اگلا مرحلہ سخت ہوگا، حتمی معاہدہ قابلِ حصول ہے ۔عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں نے مذاکراتی عمل کو شدید متاثر کیا، امریکی اور ایرانی وفود کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں تقریباً رک گئی تھیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ مفاہمتی کوششوں کے بعد تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے ، مذاکرات حالیہ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لئے ہو رہے ہیں، یہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں کا دوسرا مرحلہ ہے ۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ایران یورینیم باہر بھیجنے کے بجائے اس کی افزودگی کی سطح کم کرے گا، جوہری پروگرام، پابندیوں اور منجمد اثاثوں پر ورکنگ گروپس سرگرم ہیں، لبنان سے متعلق معاملات بھی مذاکراتی ایجنڈے میں شامل ہیں۔اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پورے عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
بعض معاملات طے کرنے کیلئے 30 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے ، مجموعی معاہدے کیلئے 60 دن کا ٹائم فریم رکھا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہاز 60 روز تک بغیر کسی ٹیرف کے گزر سکتے ہیں، جہازوں کو صرف سٹینڈرڈ نیوی گیشن یا سروس فیس دینا ہوگی۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا ایران مذاکرات کی ذاتی طورپر رہنمائی کی، سعودیہ، قطر، مصر اور امارات ثالثی کے عمل کو سپورٹ کر رہے ہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ سخت ہوسکتا ہے مگر حتمی معاہدہ قابل حصول ہے ، ڈیل میں کوئی منفی نکتہ نہیں۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اس سارے عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے ، پاکستان کا اس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے ، پاکستان نے خالصتاً امت مسلمہ اور عالمی امن کیلئے ثالثی کا مخلصانہ کردار ادا کیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ سب کچھ اسلام آباد معاہدے کے اندرموجود ہے ، یہ تاثر غلط ہے کہ پس پردہ کوئی خفیہ ڈیل ہوئی ہے ، باہمی رضامندی سے معاہدے کی مدت میں توسیع کی گنجائش موجود ہے۔