وزیر اعظم وزرا کو کنٹرول کریں:ایسا وزیر کا بینہ میں موجود کیوں ہے جو راو لا کوٹ کے کشمیریوں کو کشمیری نہ سمجھے؟بلاول اپنی بات پر قائم ہوں :خواجہ آصف
کشمیر میں حالات بگڑ چکے ہیں، چند وزرا مشکلات پیدا کررہے ،وہ معافی مانگنے کو تیار نہیں،فضل الرحمن کشمیر کی صورتحال پر ثالثی کیلئے تیار،مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے ،چیئرمین پیپلزپارٹی راولاکوٹ والوں سے معذرت کرتا ہوں:پرویز اشرف، سپیکر صاحب ہماری باتوں کا جواب آپ نے نہیں دینا ،آپکو اپنی ٹانگیں کانپنے والی تقریر یاد ہے ،اچکزئی ،میں تو ہوں ہی ملنگ،ایاز صادق جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ثالثی کی بات کی ہے توخوش آمدید :رانا ثنا ، مذاکرات کا راستہ انہوں نے خود بند کیا:طارق فضل ،وزیر اعظم اوراپوزیشن مل بیٹھیں،سیاسی تنائو کم ہوگا:علی محمد خان
اسلام آباد(نامہ نگار ،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر میں حالات بگڑ چکے ہیں، چند وزرا مشکلات پیدا کررہے ہیں، وزیراعظم اپنی ٹیم کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات میں اضافہ ہوگا جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میں کشمیر سے متعلق د ئیے گئے اپنے بیان پر قائم ہوں ،قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کے کشمیریوں کے بارے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چند وزرا ء وزیراعظم کے کام میں مدد کرنے کے بجائے مشکلات پیدا کرتے ہیں ، وزیر دفاع یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کچھ لوگ کشمیر کا حصہ نہیں، وہ معافی مانگنے کو تیار نہیں، بیان دینے کے باوجود ان کی وزارت بھی برقرار ہے ، ایسا وزیر ابھی تک کابینہ میں موجود کیوں ہے جو یہ الفاظ کہے کہ راولاکوٹ کے کشمیری، کشمیری نہیں ہیں، اور پھر اپنے بیان سے پیچھے نہ ہٹے ، یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ایسے بیانات برداشت کریں، جو نہ صرف ایک سینئر سیاستدان بلکہ ملک کے وزیرِ دفاع کی جانب سے آ رہے ہیں؟ کیا یہ بات درست نہیں کہ ایک وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ ہم اپنی جیب میں بارہ سیٹیں لے کر آتے ہیں،انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کشمیر کی صورتحال پر ثالثی کی یہ ذمہ داری لینے کے لئے تیار ہیں۔
تمام سیاسی مسائل کا سیاسی انداز میں حل نکالا جاسکتا ہے ،وزیراعظم سے درخواست ہے اپنی کابینہ کو کنٹرول کریں، بلاول بھٹو نے کہاکہ جہاں پی پی پی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی نظام ہے جہاں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے وہ خوف زدہ ہیں، کسی بھی آئینی ترمیم سے پہلے ملک بھر میں بلدیاتی انتخاب کروائیں ،ہم جی بی میں نوے روز میں بلدیاتی انتخاب کروائیں گے ، انہوں نے کہا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ صدر زرداری نے ایران سے کیا تھا، حالات بہتر ہونے پرسب سے پہلے یہ منصوبہ مکمل کریں گے ، نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ کشمیر سے متعلق اپنے بیان پر قائم ہوں،میں نے جو بات کی اسکی دلیل بھی دی ہے ، برتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ کوئی کشمیری یا پاکستانی نہیں بنتا، کشمیریوں نے جانیں دی لیکن ہم نے بھی جانیں دیں، انہوں نے کہاکہ محمود اچکزئی میرا بھائی ہے ان کے والد سے بڑے مراسم تھے وہ ان کے درمیان بیٹھے ہوئے عجیب لگتے ہیں ،ان کی پارٹی کے اندر جمہوریت نہیں ، یہ کس جمہوریت کی بات کرتے ہیں، ان کی تقریر کے دوران محمود اچکز ئی نے کہاکہ بس کافی ہو گیا جس پر خواجہ آصف یہ کہہ کر بیٹھ گئے کہ کافی ہو گیا، محمود خان اچکز ئی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ منگل کو یہاں کچھ باتیں عجیب انداز میں ہوئیں آپ سپیکر ہیں، ہماری باتوں کا جواب آپ نے نہیں دینا ہوتا ہے ، آپ کو اپنی وہ تقریر یاد ہے یا نہیں آپ نے اس وقت کے آرمی چیف کے متعلق کہا تھا، ٹانگیں کانپ رہی تھیں آپ بانی پی ٹی آئی کی پارٹی میں تھے آپ داغ مفارقت دیتے ہوئے اس پارٹی میں شامل ہو گئے۔
منگل کو اس ایوان میں آپ کی باتیں مجھے بری لگیں، یہ آپ کا کام نہیں تھا، ہمیں نہ چھیڑیں،ِ نہ چھیڑ ملنگاں نوں ،جس کے جواب میں سپیکر ایاز صادق نے کہاکہ میں تو ہوں ہی ملنگ ، میں نے 1998 میں پی ٹی آئی چھوڑ دی ، 2001 میں مسلم لیگ (ن) جوائن کی تھی ۔میں نے کسی اقتدار کی پارٹی کو جوائن نہیں کیا تھا ، یہ عہدہ تاحیات نہیں ہے لیکن عزت کے رشتے رہنے چاہئیں ہماری ذاتی لڑائی نہیں، پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ کشمیر ایک بہت حساس علاقہ ہے ،آپ خواجہ ہیں، خود آپ کشمیری ہیں کشمیر کے حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے آگ پر پانی ڈالنے کی ضرورت ہے ، غیر ذمہ دارانہ بیان دینا کشمیر کاز کے لئے نقصان دہ ہے ، میں ان کی طرف سے راولاکوٹ والوں سے معذرت کرتا ہوں، رانا ثناء اللہ نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن نے ثالثی کی بات ہے ، ہم خوش آمدید کہیں گے ،مہاجرین کی سیٹوں کو ختم کرنے کا فیصلہ آزاد کشمیر قانو ن ساز اسمبلی کر سکتی ہے ، ، فاروق ستارنے کہاکہ آزاد کشمیر میں قومی مصالحت سے کام نہ لیا تو کراچی ایکشن کمیٹی بھی بنے گی ، پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر نے اپنی تقریر سے پہلے یہ شعر پڑھا پھر بھی ہم سے گلہ ہے ، ہم وفادار نہیں، ہم اگر وفادار نہیں تو آپ بھی دلدار نہیں۔سپیکرنے کہاکہ یہ تو میری طرف سے ہونا چاہئے ۔
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ ہم نے 6 کروڑ ووٹ میں سے ، تین کروڑ ووٹ لیے ، ان کی چار دہائیوں کے ثمرات یہ ہیں کہ آج عوام کے پاس نہ پانی ہے نہ بنیادی ضروریات، چن کر ہمارے بندوں کو یہاں سے لے گئے ،بلاول بھٹو کا شُکریہ ادا کرتا ہوں اس وقت انہوں نے کردار ادا کیا۔ گلگت بلتستان میں بلاول نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی تین سیٹیں تھی ،بلاول بھٹو یہ تو بتائیں انکی کتنی سیٹیں تھیں ہماری سیٹیں کہاں گئیں ، طارق فضل چودھری نے کہا کہ حکومت ماضی میں بھی کشمیر کاز کے لیے کھڑی رہی ہے اور آج بھی کمر بستہ ہے ، حکومت مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتی ہے ، تاہم مذاکرات کا راستہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے بند کیا گیا ہے ، انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کے انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے ، تحریک انصاف کے علی محمد خان نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے چار مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی گئی ،پارلیمنٹ ہائوس میں موجود کانسٹی ٹیوشن روم کو سیاسی مکالمے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے اور اگر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر وہاں مل بیٹھیں تو سیاسی تنا ئومیں نمایاں کمی آ سکتی ہے ، مذاکرات کی بات صرف بیانات تک محدود نہیں رہنی چاہیے ۔بعد ازاں سپیکر نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔