برگن سٹاک مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ ہونگے :پاکستان

 برگن سٹاک مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ ہونگے :پاکستان

3 ورکنگ گروپ نیوکلیئر پروگرام، پابندیوں و منجمد اثاثوں، لبنان پر کام کررہے ایران کیساتھ اقتصادی تعاون پابندیوں میں نرمی سے منسلک:ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد (وقائع نگار،اے پی پی )ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات میں عارضی وقفہ آیا ہے تاہم یہ بات چیت آئندہ ہفتے دوبارہ شروع ہوگی۔ 3 مخصوص تکنیکی ورکنگ گروپس بنائے گئے ہیں، پہلا گروپ نیوکلیئر پروگرام سے متعلق معاملات کو دیکھ رہا ہے ، دوسرا گروپ پابندیوں اور منجمد اثاثوں کے امور کا جائزہ لے رہا ہے ، تیسرا گروپ لبنان کی صورتِ حال پر کام کر رہا ہے ۔پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی۔ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون میں پیشرفت کا انحصار تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی سے منسلک ہے ۔ ایران کے لئے پابندیوں میں نرمی کا راستہ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ہونے والے مذاکرات کے ذریعے پہلے ہی شروع ہو چکا ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں معمول کی سرگرمیوں کی مکمل بحالی میں آپریشنل تقاضوں کے باعث کچھ وقت لگ سکتا ہے ۔آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان خلیج تعاون کونسل کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے اور علاقائی مسائل کے علاقائی حل پر یقین رکھتا ہے ۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ صومالیہ کوسٹ پر پاکستانیوں کو یرغمال بنایا گیا، پاکستانیوں کی بازیابی کیلئے صومالیہ کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، پاکستان ایرانی، امریکی اور برطانوی حکام کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ ایرانی شہریوں کی محفوظ واپسی یقینی بنائی جا سکے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈنمارک کی مشترکہ کاوش سے سلامتی کونسل نے امن دستوں کے خلاف جرائم پر جوابدہی مضبوط بنانے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی، قرار داد کو اقوامِ متحدہ کے 153 رکن ممالک کی حمایت حاصل رہی، یہ قرار داد امن دستوں کی سلامتی اور امن مشنز کی مؤثریت بڑھانے میں پاکستان کے قائدانہ کردار کی عکاسی کرتی ہے ۔افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ دوطرفہ روابط سے متعلق اپنی بیشتر ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ذاتی طور پر اس عمل کی نگرانی کی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ بعد میں بعض پیش رفتوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں میں مشکلات پیدا کیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے ہماری مصروفیات جاری ہیں اور اس مسئلے کا سادہ حل یہ ہے کہ افغان فریق بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کرے ۔ایران کے مرحوم سپریم لیڈر شہید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستان کی نمائندگی سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ اس تقریب میں کون شرکت کرے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں