لاہور : ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق
کاہنہ کے علاقے کچوانہ میں 6مرلے کے گھر میں 30 سے 35 بچے ٹیوشن پڑھ رہے تھے ، ٹی آرگارڈر والی چھت پر مٹی ڈالنے کاکا م جاری تھا کہ وزن برداشت نہ کرنے سے وہ بچوں پر آگری جاں بحق بچوں کی عمریں4 سے 12سال،7بچیاں شامل ، ٹیچر اور 8 بچے زخمی، باقی محفوظ،ریسکیو آپریشن ایک گھنٹے میں مکمل ،علاقے میں کہرام ،صدر، وزیراعظم،بلاول ودیگر کا اظہار افسوس
لاہور،کاہنہ (کرائم رپورٹر،اپنے سٹاف رپورٹر سے ،ہیلتھ رپورٹر،نمائندہ دنیا )لاہو ر کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، خاتون ٹیچراور 8 بچے زخمی ہو گئے ،اکیڈمی میں موجود دیگر بچے معجزانہ طور پر محفوظ رہے ، تفصیلات کے مطابق کاہنہ کے علاقہ کچوانہ میں شام ساڑھے 4بجے کے قریب ایک 6مرلے کے گھر میں قائم اکیڈمی میں 30 سے 35 بچے ٹیوشن پڑھ رہے تھے جبکہ ٹی آر اور گارڈر پر مشتمل چھت پر مٹی ڈالی جارہی تھی جس کیلئے مزدور کام کررہے تھے ،ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایک گارڈر وزن برداشت نہ کرسکا اور چھت اچانک بچوں پر آگری،حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا ،ملبے تلے بچوں کے دبے ہونے کی اطلاع پر والدین اور دیگر رشتہ دار دھاڑیں مار کر روتے رہے ، ریسکیو حکام کے مطابق اس سانحہ کی اطلاع شام 4:43 بجے ملی ، ریسکیورز نے فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرتے ہوئے 30 سالہ ٹیچر سمیت 19 افراد کو انتہائی تشویشناک حالت میں ملبے سے نکالا اور سی پی آر دیتے ہوئے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہسپتال ذرائع کے مطابق 14 زخمی جاں بحق ہو گئے ۔جاں بحق بچوں کی عمریں4سے 12 سال بتائی جاتی ہیں، ٹی ایچ کیو ہسپتال کاہنہ میں 6 بچوں اور 30سالہ ٹیچر حمیدہ ریحان کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
ایمرجنسی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 9 بچیاں شامل ہیں، 12 بچوں کی عمریں پانچ سے نو سال کے درمیان ہیں، دو بچیوں کی عمریں بالترتیب 11 اور 12 سال ہیں ،ہسپتال انتظامیہ کے مطابق 9 بچیاں اور 5 بچے مردہ حالت میں ہسپتال لائے گئے ، جبکہ 8 زخمی بچوں اور زخمی ٹیچر کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی،زخمی بچوں میں سے پانچ کو ابتدائی علاج کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا، ایک بچے کو مزید معائنے اور خصوصی علاج کے لیے چلڈرن ہسپتال ،زخمی خاتون ٹیچر کو لاہور جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے ،یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی کارروائی ایک گھنٹے میں مکمل کر لی گئی۔واقعے کے فوری بعد صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر اور صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے ٹی ایچ کیو کاہنہ ہسپتال کا دورہ کیا، زخمی بچوں کی عیادت کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا، ،علاقہ مکینوں کے مطابق عمارت میں صبح کے اوقات میں سکول بھی چلتا تھا ۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع پوری قوم کیلئے انتہائی افسوسناک ہے ، ایسے سانحات کے تدارک کے لیے موثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جاں بحق ہونے والوں کی بلند درجات کی دعا اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے ،انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا یہ ایک بڑا ،ناقابل تلافی اور انتہائی دلخراش سانحہ ہے ، انہوں نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ متاثرین کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنائیں۔انہوں نے حکام اور ریسکیو ٹیموں سے کہا کہ وہ زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں کو ہرممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت اور ان کی جلد صحتیابی دعا کی ہے ۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کو ہدایت کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت کریں اور زخمیوں کو درکار سہولیات کی فراہمی میں متعلقہ اداروں سے تعاون کریں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زخمی بچوں کو فوری اور معیاری علاج معالجے کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کی جانیں بچانے اور جلد صحت یابی کو یقینی بنایا جا سکے۔