28ویں ترمیم آنا فاناً نہیں، مشاورت سے آئیگی، پہلی بار ہائیکورٹ ججز کی تقرری کیلئے انٹرویو ہونگے : وزیر قانون
دو عدالتوں سے فیصلے اور دو سے تاریخیں ملتی ہیں ، ججز کا احترام مگر یہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ، تنخواہ ،مراعات ایک جیسی ہیں تو کام ایک جیسا کیوں نہیں ، بہتر کارکردگی نہ ہونے پر ریفرنس بھیجا جائیگا کمیٹی غیر تسلی بخش کارکردگی پر جج کو برطرف کرنے کی سفارش کرسکتی ہے ، وکیل کو پتہ ہوتا ہے یا تو کیس کا فیصلہ ہوگا یا بال سفید ہو جائیں گے :اعظم نذیر تارڑ ، لاہور میں وکلاء سے خطاب
لاہور (کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم آناً فاناً نہیں بلکہ تمام متعلقہ حلقوں سے مشاورت کے بعد ہی لائی جائے گی، پہلی بار ہائیکورٹ ججز کی تقرری کیلئے انٹرویو ہونگے جبکہ ان کی کارکردگی کا سالانہ جائزہ لینے کیلئے بھی باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے ۔ پنجاب بار کونسل کے زیر اہتمام لائرز اکیڈمی کے افتتاح اور بار ووکیشنل پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ججز کی تقرری کا عمل مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے ، اس مقصد کیلئے سات رکنی کمیٹی امیدواروں کے انٹرویوز کرے گی اور اپنی سفارشات جوڈیشل کمیشن کو بھجوائے گی۔ پہلی مرتبہ ججز کی کارکردگی جانچنے کیلئے ایویلیوایشن کا مؤثر نظام متعارف کرایا جا رہا ہے ۔ ہر سال ججز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر کسی جج کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہوئی تو متعلقہ کمیٹی جج کو برطرف کرنے کی سفارش کے ساتھ معاملہ جوڈیشل کمیشن کو بھیج سکے گی، جو آئین اور قانون کے مطابق مزید کارروائی کرے گا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دو عدالتوں سے فیصلے اور دو سے تاریخیں ملتی ہیں ،تمام ججز قابلِ احترام ہیں، تاہم جب تنخواہیں اور مراعات یکساں ہیں تو کارکردگی بھی یکساں ہونی چاہئے کیونکہ یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے ، وکیل کو پتہ ہوتا ہے یا تو کیس کا فیصلہ ہوگا یا بال سفید ہو جائیں گے ،عدلیہ میں احتساب اور مؤثر کارکردگی کا نظام وقت کی اہم ضرورت ہے ، بہتر کارکردگی نہ ہونے پر ریفرنس بھیجا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر بھی بار کونسلز اور دیگر متعلقہ حلقوں سے مشاورت کی گئی تھی جبکہ 28ویں آئینی ترمیم بھی اتفاقِ رائے اور وسیع مشاورت سے ہی متعارف کرائی جائے گی۔وفاقی وزیر نے قانونی تعلیم میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لا گیٹ، انٹری ٹیسٹ، ڈگریوں کی تصدیق اور بائیو میٹرک نظام جیسے اقدامات وکالت کے شعبے کا معیار بہتر بنانے کیلئے کئے گئے ہیں، نادرا کے ساتھ بائیو میٹرک نظام کے معاملات بھی تقریباً طے پا چکے ہیں۔
انہوں نے وکلا کی فلاح و بہبود کیلئے بار ووکیشنل کورس کیلئے 2 کروڑ روپے گرانٹ دینے کا اعلان کیا اور بتایا کہ پنجاب کی بار ایسوسی ایشنز کو 135 کروڑ روپے فراہم کئے جا چکے ہیں۔ وکلا اور ان کے اہل خانہ کیلئے صحت انشورنس پالیسی پر بھی کام جاری ہے ، جس کے تحت دل، گردے ، جگر اور کینسر سمیت سنگین بیماریوں کے علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔انہوں نے وکلا پر زور دیا کہ انتظامی معاملات یا فرد کے اجرا میں تاخیر جیسے مسائل پر قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے بار کونسلز کے ذریعے حل تلاش کریں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کے سابق صدر احسن بھون نے کہا کہ آئین میں کسی بھی ترمیم کا ایک واضح آئینی طریقہ کار موجود ہے اور حکومت اگر کوئی مجوزہ ترمیم بار کونسلز کے ساتھ شیئر کرے گی تو اس کا قانونی اور آئینی جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وکلا برادری آئین، قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی نے لائرز اکیڈمی کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے وکلا کی پیشہ ورانہ تربیت کیلئے یہ ایک اہم سنگِ میل ہے اور اس ادارے کی مزید بہتری کیلئے کوششیں جاری رہیں گی۔