اس کم علم مسافر کے ایک خام تجزیے کے مطابق جدید انسانی تاریخ میں روئے ارض پر اگر جانوروں کے بدترین قتل عام کی فہرست مرتب کی جائے تو اس میں امریکی بائسن (Bison) جسے امریکہ میں بفلو بھی کہا جاتا ہے‘ پہلے نمبر پر ہوگا۔ امریکہ میں گوروں کے آنے سے پہلے یعنی سیٹلرز کی آمد سے قبل امریکہ کے جنگلوں‘ ویرانوں‘ چراگاہوں‘ سرسبز میدانوں‘ نیم پہاڑی علاقوں اور گھاس زاروں میں‘ غرض موجودہ امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے کم از کم تیس ریاستوں کے علاوہ میکسیکو اور کینیڈا میں بائسن کے ہزاروں ریوڑ آزادانہ گھومتے تھے۔ یہ شمالی امریکہ کی سرزمین پر سب سے زیادہ تعداد میں پایا جانے والا جانور تھا۔ ان کی تعداد کے بارے میں مختلف آراء ہیں جو تین کروڑ سے چھ کروڑ جنگلی بائسن‘ جسے اُردو میں ارنا بھینسا کہا جاتا ہے‘ کی امریکی سرزمین پر موجودگی بتاتے ہیں۔ مقامی امریکی اور ارنا بھینسے ایک دوسرے کے ساتھ اس سرزمین پر صدیوں سے بقائے باہمی کے اصول کے مطابق زندگی گزار رہے تھے۔ مقامی باشندے یقینا ان کا شکار کرتے تھے لیکن ان کا شکار صرف اور صرف ضرورت کے مطابق ہوتا تھا۔ جس تعداد میں وہ اپنے قدیم روایتی ہتھیاروں سے اس جانور کا شکار کرتے تھے قدرت کا نظام اس باہمی نسبت کو برقرار رکھتا تھا۔ شکار ہونے والے ارنا بھینسوں کی تعداد دنیا میں نئے آنے والے ارنا بھینسوں کی تعداد سے کم تھی‘ لہٰذا اس جانور کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔
ہم ارنا بھینسوں کی 1800ء میں تخمینہ شدہ تعداد کے کم ترین اعداد کو درست مان لیں تب بھی یہ تعداد تین کروڑ ارنا بھینسوں کی یقینی موجودگی کی دلالت کرتی ہے۔ ارنا بھینسے اور مقامی امریکی جنہیں ہم لوگ ریڈ انڈینز کے نام سے جانتے ہیں‘ اس سرزمین پر شکار اور شکاری ہونے کے باوجود اس طرح زندگی گزار رہے تھے کہ ماحولیاتی نظام اوپر تلے ہوئے نہایت عمدہ توازن کے ساتھ چل رہا تھا۔ اس سرزمین پر ایک آئیڈیل ایکو سسٹم اپنی معراج پر تھا۔پھر سال 1500ء میں یورپ سے مہاجرین کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ خدا جانے یہ مہاجرین تھے یا پناہ گزین تھے تاہم توسیع پسندانہ عزائم کے مالک ان یورپی نوواردوں نے اس سرزمین پر بھی وہی کچھ شروع کر دیا جو اُن کا خاصہ تھا۔ بارود سے ناآشنا مقامی باشندوں کیلئے اپنے روایتی ہتھیاروں یعنی تیر کمانوں کے ساتھ بندوقوں کا مقابلہ ممکن نہ تھا (دیگر ہتھکنڈے علیحدہ داستان ہے‘ فی الحال ارنا بھینسوں کے نسل کشی کا موضوع زیر نظر ہے) ان سیٹلرز نے اپنی بندوقوں کے زور پر مقامی باشندوں اور ارنا بھینسوں کا یکساں قتلِ عام کیا۔ 1830ء سے قبل کے تخمینوں کی کم سے کم تعداد کے مطابق تین کروڑ سے زائد ارنا بھینسے محض سات عشروں کے دوران اس بیدردی سے شکار کیے گئے کہ 1889ء میں ان کی تعدا د محض 541 رہ گئی‘ جی ہاں صرف 541۔ صرف 59 سالوں میں یہ جانور تین کروڑ میں سے صرف 540باقی رہ جانے کے بعد اس قتلِ عام کی تفصیل میں جانے کی اور اس کی جزئیات بتانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ اعداد و شمار تمام کہانی خود بیان کرتے ہیں۔
ارنا بھینسوں کا یہ قتل عام ان کے گوشت سے زیادہ ان کی کھالوں کی تجارت‘ محض شکار اور امریکن ریلوے جس کا آغاز 1862ء میں Pacific Railway Acts سے شروع ہوا‘ کی تعمیر و توسیع کے لیے جنگلوں اور میدانوں کو صاف کیا گیا۔ اس صفائی کے دوران ارنا بھینسوں کی بھی صفائی کر دی گئی۔ 1830ء میں شروع ہونے والے اس قتل عام کے نتیجے میں 1890ء تک جنگلی ارنا بھینسے تقریباً ختم ہو گئے۔ تین کروڑ کی تعداد کو سامنے رکھیں تو 541کوئی معنی ہی نہیں رکھتے۔ چند سو ارنا بھینسے لوگوں کی نجی جاگیروں اور باڑوں میں موجود تھے تاہم پالتو اور جنگلی ارنا بھینسوں کی کل تعداد بھی ایک ہزار سے زیادہ نہ تھی۔1903 ء میں بائسن کنزرویشن پروگرام کا آغاز کیا گیا اور امریکن بائسن سوسائٹی قائم ہوئی۔ شکار کی روک تھام کے قوانین وضع کیے گئے۔قوانین تو ہمارے یہاں بھی موجود ہیں‘ اصل مسئلہ قانون کے نفاذ کا ہے جو بہرحال ہمارے یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم امریکہ میں ارنا بھینسوں کے تحفظ کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر سختی سے عمل کیا گیا اور اسے ایک انگریزی کے لفظ ''لیٹر اینڈ سپرٹ‘‘ کے مطابق لاگو کیا گیا۔ 1916ء میں نیشنل پارک سروس کے تحت محفوظ علاقے قائم کیے گئے اور ان میں نجی باڑوں میں موجود ارنا بھینسوں کو چھوڑا گیا۔ 2020ء تک انکی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ چکی تھی جن میں زیادہ تعداد نجی رینچوں میں پروان چڑھ رہی ہے‘ تاہم اب بھی ارنا بھینسے شمالی ریاستوں کے سبزہ زاروں میں دکھائی دیتے ہیں۔ قدرتی ماحول میں ان کی سب سے بڑی تعداد 9000 مربع کلو میٹر پر مشتمل تین امریکی ریاستوں‘ وائی اومنگ‘ اڈاہو اور مونٹانا میں پھیلے ہوئے 1872ء میں قائم ہونے والے دنیا کے پہلے Yellowstone نیشنل پارک میں ہے۔ 1902ء میں یہاں 24 ارنا بھینسے باقی بچے تھے اور تازہ ترین شماریات کے مطابق یہاں 5300 سے زائد بھینسے ہیں جو جنگلی ارنا بھینسوں کا امریکہ میں سب سے بڑا ریوڑ اور جنگلی حیات کے تحفظ کی دنیا میں کامیاب ترین مثال سمجھی جاتی ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ میں ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ تو صرف سفید دم والے ہرن ہی ہیں۔ اگر میں 1800ء میں امریکی حیاتِ جنگلی کی صورت حال کا موازنہ سیٹلرز کے آنے کے بعد اندھادھند شکار کے نتیجے میں 1890ء سے 1910ء کے درمیان زندہ بچ جانے والے جنگلی جانوروں سے کروں تو سفید دم والے ہرنوں کی تعداد چارکروڑ سے کم ہو کر تین لاکھ رہ گئی‘ ارنا بھینسوں کی تعداد تین کروڑ سے کم رہ کر 451 رہ گئی۔ ایلک ایک کروڑ سے چالیس ہزار رہ گئے۔ پرونگ ہارن ہرن ساڑھے تین کروڑ سے کم ہو کر تیرہ ہزار رہ گئے۔ موس سات لاکھ کے بجائے ایک لاکھ باقی بچے۔ اب سفید دم والے ہرنوں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ‘ ارنا بھینسوں کی تعداد پانچ لاکھ‘ ایلک دس لاکھ‘ پرونگ ہارن ہرن اور موس دس دس لاکھ سے زیادہ ہیں۔ یہ بحالی اس لیے ممکن ہوئی کہ امریکہ میں شکار پر پابندی لگانے کے بجائے لائسنس‘ کوٹے‘ مخصوص موسم‘ نر اور مادہ جانوروں کے درمیان تخصیص کی بنیاد پر شکار کے لائسنسوں کا اجرااور حیاتِ جنگلی کے تحفظ کے نظام پر مکمل عملدرآمد تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ میں بے تحاشا شکار کے باوجود قابلِ شکار جانوروں اور پرندوں کی تعداد کم ہونے کے باوجود بڑھ کیسے رہی ہے ؟ جواب یہ ہے کہ امریکہ میں شکار کا نظام سائنسی بنیادوں پر چلایا جاتا ہے۔ ہر سال جنگلی حیات کے ماہرین جانوروں کی آبادی کا اندازہ لگاتے ہیں‘ پھر اسی حساب سے ہر ریاست شکار کے لائسنس اور کوٹے جاری کرتی ہے تاکہ آبادی میں کمی نہ آئے بلکہ وہ مستحکم رہے یا بڑھے۔ پاکستان میں محکمہ شکار بھی اور شکار کے قوانین بھی موجود ہیں۔ تحفظ حیات جنگلی کا ادارہ بھی ہے اور ان کے تحفظ کے ضوابط بھی ہیں ہیں مگر ان سب کے باوجود غیر قانونی شکار عام ہے اور کچھ جانور ناپید ہو چکے ہیں جبکہ باقی بچے ہوئے معدومی کے سفر پر رواں ہیں۔ مقامی جانور تو رہے ایک طرف ہر سال سائبیریا سے آنے والے مہاجر پرندے بھی اپنا صدیوں پرانا روٹ‘ فلائی وے نمبر چار جو پاکستان سے گزرتا ہے‘ آہستہ آہستہ چھوڑ رہے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن پر پھر سہی۔ فی الحال تو دیکھنا ہے کہ دنیا بھر میں جانوروں کے تحفظ اور ان کی بحالی اور حیاتِ نو کے سلسلے میں کیا شاندار نتائج حاصل ہو رہے ہیں اور ہمارے جانور کس بری طرح معدومی کی طرف رواں ہیں۔ قوانین میں خامیوں اور ان پر پوری طرح عملدرآمد میں ناکامی نے صورتحال کو بدترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ بھارت میں گزشتہ دس سال کے دوران صرف جنگلی شیروں کی تعداد دو گنا ہو چکی ہے اور ایک سینگ والے گینڈوں کی تعداد گزشتہ پچاس سال میں دو سو سے تین ہزار تک پہنچ چکی ہے۔