جنگ بندی، ختم، نئے امریکی حملے، ایران دھماکوں سے گونج اٹھا : آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنیکی ایرانی دھمکی
بندر عباس، سرک، کونارک ، چا بہار ،بوشہر میں دھماکے ، جوہری پاور پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا،ایرانی میڈیا ، دوبارہ بحری ناکہ بندی پر غور کر رہے :ٹرمپ ایک روز قبل حملوں میں8 ایرانی فوجی اہلکار شہید،60 چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا :امریکی سینٹرل کمانڈ، ایران کے بحرین ،کویت میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے ،تیل8فیصد مہنگا
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں) صدر کے جنگ بندی ختم کرنے اور نئے حملوں کے اعلان کے بعد امریکی فوج نے بدھ رات گئے ایران میں فضائی حملے کئے جس کے بعد ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے ۔ایرانی خبرایجنسی کے مطابق بندر عباس، سرک، کونارک اور چا بہار میں دھماکے سنے گئے ۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے چابہار میں دھماکوں کے بعد بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ، بوشہر صوبے کے قریب بھی دھماکے سنے گئے ۔ بوشہر پر امریکی حملے سے جوہری پاور پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ایرانی میڈیا کے مطابق چا بہار پر امریکی حملے کے باعث پروجیکٹائل کا ٹکڑا امام علی ہسپتال پر گرا ، ایران کے ابوموسیٰ جزیرے میں بھی دھماکے سنے گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فورسز جلد خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر بڑے حملے شروع کریں گی۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے چابہار میں واقع امام علی نادسا کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ۔ بتایا جا رہا ہے اب تک چابہار اور کونارک میں تقریباً دس دھماکوں کی آوازیں سنی جا چکی ہیں۔دوسری جانب سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق بندر عباس میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے جبکہ اس علاقے سے بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے عبوری معاہدے کو ’’ختم شد‘‘ قرار دیدیا۔امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد اس کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ہو گیا ۔ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں یہ (معاہدہ)ختم ہو چکا ہے ، میں ان کے ساتھ کوئی لین دین نہیں کرنا چاہتا، ان کے ساتھ وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
انہوں نے ایران پر معاہدے کی روزانہ بنیاد پر خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر روز اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ جھوٹ بولتے ہیں اور دھوکہ دیتے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران اب مشرقِ وسطٰی میں پہلے جیسا بااثر اور طاقتور فریق نہیں رہا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری مواد ایک پہاڑ کے نیچے اتنی گہرائی میں موجود ہے کہ اسے نکالنے کیلئے بھاری مشینری درکار ہو گی، جو ہمارے سوا کسی اور ملک کے پاس نہیں ۔جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا ایران میں زمینی فوج تعینات کرنے پر غور کرے گا ؟،تو انہوں نے مزید کہا کہ میں وہاں کیوں جاؤں گا؟ ،میں اُس وقت جاؤں گا جب وہ مکمل طور پر یا تو ختم ہو چکے ہوں گے یا پھر کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا ایران کے ساحل کے قریب واقع اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے اور اس معاملے میں تہران زیادہ کچھ نہیں کر سکے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر رہا ہے ۔ ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات سے قبل صحافیوں کو بتایاانہیں امید ہے یہ دوبارہ مکمل جنگ کی شکل اختیار نہیں کرے گا اور جو کچھ بھی ہوگا بہت جلد ختم ہو جائے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ٹینکرز پر حملوں کے جواب میں امریکی کارروائی کے بعد بحرین اور کویت میں قائم امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک امریکی MQ-9 ڈرون بھی مار گرایا ہے ۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی ایران پر امریکی حملوں میں ایران کے 8 فوجی اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک روز قبل ان کے حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے نظام، اور ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ انہوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب، ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے مزید حملے کیے تو وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دے گا، جو کہ عالمی توانائی کی تجارت کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے ۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی حملوں اور ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والے لائسنس کی منسوخی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فریم ورک معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔ادھر امریکی صدر ٹرمپ کے بیان اور مشرق وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، برینٹ خام تیل کی قیمت 8 فیصد اضافے کے ساتھ 80 اعشاریہ12ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 7فیصد اضافے کیساتھ 75 اعشاریہ 34 ڈالر فی بیرل کا ہو گیاجبکہ دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی۔پاکستان سٹاک مارکیٹ میں بھی کاروبار کے دوران شدید منفی رجحان ریکارڈ کیا گیا ۔کاروباری ہفتے کے تیسرے روز کاروبار کے آغاز پر سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھنے میں آئی۔