امریکا ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے وعدوں کی پاسداری کریں : پاکستان
نئے تنازع کا آغاز کسی کے مفا د میں نہیں ،تعمیر ی مذاکرات اور سفارتکاری موثرراستہ ،اس کا کوئی متبادل نہیں :دفترخارجہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں ،کشیدگی سے گریز کیاجائے :سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ ،قطراور چین کا مذاکرات کے لئے اصرار
اسلام آباد (وقائع نگار، مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تازہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی نئے تنازع یا جنگ کا آغاز کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہوگا،فریقین اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔ دفتر خارجہ نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے مشترکہ مقصد کے حصول کیلئے مسلسل رابطے ، تعمیری مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں اور ان کا کوئی متبادل نہیں۔
پاکستان نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کئے گئے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں۔بیان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے اور اس سے باہر باہمی افہام و تفہیم، احترام اور مشترکہ خوشحالی کیلئے ایک مضبوط اور دیرپا بنیاد فراہم کرتی ہے ۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور تعمیری سفارتی کوششوں کے فروغ کیلئے آئندہ بھی اپنا مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے بھی تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے ، مزید کشیدگی سے گریز اور مذاکرات کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے ۔ادھر قطر اور چین نے بھی ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل پر زور دیا ہے ۔