حکومتی منظوری کے بغیر مفادعامہ کی زمین کا نجی، تجارتی استعمال نہیں ہوسکتا : وفاقی آئینی عدالت
عدالتی نیلامی سے زمین کا خریدار اصل کمپنی کی قانونی شرائط کا پابند رہتا ہے ، استعمال کی نوعیت تبدیل نہیں ہوتی:تحریری فیصلہ شریعت کے اصول اس امر کی تائید کرتے :عدالت، ملز کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی اجازت اپیل مسترد ، ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت عوامی مقصد کے لیے حاصل کی گئی زمین کو حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر نجی یا تجارتی استعمال یا ہاؤسنگ سکیم میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتی نیلامی کے ذریعے ملکیت منتقل ہونے سے زمین کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی، نیا خریدار صرف وہی حقوق حاصل کرتا ہے جو اصل کمپنی کو حاصل تھے اور وہ زمین کے حصول کے وقت عائد قانونی اور معاہداتی شرائط کا پابند ہوتا ہے ۔ شریعت کے اصول بھی اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ عوامی مقصد کے لیے حاصل کی گئی زمین کو نجی تجارتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تحریری فیصلے میں ایم/ایس عادل انٹرنیشنل کی درخواست اجازتِ اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کی دفعہ 41 کے تحت حکومت اور اصل کمپنی کے درمیان معاہدہ قانونی حیثیت رکھتا ہے جس کے مطابق زمین صرف بورڈ اور پیپر ملز کے قیام اور آپریشن کے لیے استعمال کی جا سکتی تھی۔ دفعہ 43-اے کے تحت ایسی زمین کی فروخت، لیز، رہن، منتقلی یا استعمال میں تبدیلی صوبائی حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔
عوامی مقصد کے لیے حاصل کردہ زمین نجی مفادات یا تجارتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا لینڈ ایکوزیشن کے قانونی ڈھانچے اور آئین کے آرٹیکل 24 کے منافی ہوگا۔ آئین شہریوں کو جائیداد رکھنے کا بنیادی حق دیتا ہے تاہم ریاست صرف عوامی مفاد اور قانون کے مطابق ہی کسی شخص کی جائیداد حاصل کر سکتی ہے ۔ لہٰذا جب وہ عوامی مقصد ختم ہو جائے یا زمین اس مقصد کے برعکس استعمال ہونے لگے تو حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی مجاز ہے ۔ فیصلے میں اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسلام میں نجی ملکیت کو تحفظ حاصل ہے اور کسی کی جائیداد کو ناجائز طور پر استعمال یا ہڑپ کرنا ممنوع ہے ۔ اگر صوبائی حکومت سمجھے کہ زمین اصل مقصد کے لیے مزید درکار نہیں تو وہ قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی مجاز ہوگی۔