بلوچستان میں سرمایہ کاری کیلئے ساز گار ماحول پیدا کیا جائے :چینی کمپنی
غیر ضروری ٹیکسوں ، رکاوٹوں کے خاتمے کے بغیر سرمایہ کاری کا فروغ ناممکن:چیئرمین 2014ء سے اب تک 322ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرا چکے :ژانگ لیانگینگ
کوئٹہ(سٹاف رپورٹر)بلوچستان میں کام کرنے والی چین کی ایم سی سی ہوادھوڈر مائننگ کمپنی کے چیئرمین ژانگ لیانگینگ نے کہا ہے کہ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ، بیرونی سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں، تاہم سرمایہ کاروں کو درپیش غیر ضروری ٹیکسوں، پیچیدہ بیوروکریسی اور انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کے بغیر سرمایہ کاری کے فروغ کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا، وفاقی اور صوبائی حکومتیں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیدا کریں تاکہ بلوچستان کے معدنی وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے ۔کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ایم سی سی ہوادھوڈر مائننگ کمپنی اپنے منصوبے کے ذریعے مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے رہی ہے ۔
کمپنی تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، مواصلاتی نظام کی بہتری اور دیگر سماجی شعبوں میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے ، کمپنی کو پیداوار اور برآمدات کے حوالے سے متعدد مشکلات کا سامنا ہے ۔ چینی کمپنی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے عائد غیر ضروری اور بلاجواز ٹیکسز صنعتی سرگرمیوں اور پیداوار میں رکاوٹ بن رہے ہیں، وفاقی حکومت نے مجموعی ٹیکسوں کی شرح تقریباً 42 فیصد تک بڑھا دی جبکہ بلوچستان حکومت کی جانب سے 18 فیصد سیلز ٹیکس سمیت دیگر مالی بوجھ نے بھی صنعت پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے ۔ژانگ لیانگینگ نے کہا کہ ضروری ہے ٹیکس نظام کو متوازن اور سرمایہ کار دوست بنایا جائے ،کسٹمز کے تحت برآمدات کیلئے متعارف کرائے گئے جدید ای سسٹم کو مزید آسان، مو ثر اور کاروبار دوست بنایا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی 2014ء سے اب تک رائلٹی کی مد میں تقریباً 7 ارب روپے ، 210 ارب روپے سیلز ٹیکس اور 105 ارب روپے سے زائد سرچارجز قومی خزانے میں جمع کرا چکی جو ملکی معیشت میں کمپنی کے نمایاں کردار کا مظہر ہے ۔