ایف بی آر کاروباری طبقے کے جائز مسائل حل کرے : وزیر اعظم

ایف بی آر کاروباری طبقے کے جائز مسائل حل کرے : وزیر اعظم

سینئر افسر ہر ماہ کراچی کا دورہ کریں ،کاروباری افراد سے رابطوں کی ہدایت

اسلام آباد(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے ، رواں سال معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ہوگا ، کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، انہیں زیادہ پیداوار اور برآمدات کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے ،ایف بی آر اصلاحات، ٹیکس نظام پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ ایف بی آر کاروباری طبقے کے ساتھ تعاون اور ان کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے ،ایف بی آر کے سینئر افسر ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں کراچی کا دورہ کریں تاکہ کاروباری برادری سے براہِ راست رابطہ ہو اور انکے مسائل بلاتاخیر حل ہوں،انہوں نے کہاکہ حکومت کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا، اور ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور آسان بنانا ہے۔

اجلاس کو ایف بی آر کی کارکردگی اور جاری اصلاحات کے نفاذ کے حوالے سے بریفنگ میں بتایاگیاکہ شوگر، سیمنٹ، ٹوبیکو ، ٹائلز اور فرٹیلائزرز کی صنعتوں کی پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب ہو چکی ۔ٹیکسٹائل اور مشروبات کی صنعتوں کی پروڈکشن مانیٹرنگ کے نظام کی تنصیب کا عمل جاری ہے ، دریں اثنا لائیو سٹاک کی استعداد کے حوالے سے منعقدہ قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ لائیو سٹاک کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت ہے ، ایک ہزار نوجوان زرعی گریجویٹس کو میرٹ کی بنیاد پر چین بھیجا جا چکا ہے ، مزید ایک ہزار بچوں اور بچیوں کو تربیت کے لیے رواں سال چین بھیجا جائے گا، وزیراعظم نے کہاکہ ملکی لائیو سٹاک کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت ہے ،انہوں نے کہاکہ لائیو سٹاک کے شعبے کی ترقی کے لیے وفاق اور صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں محنت سے کام کیا جائے تو ایک سال میں معیشت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے ، انہوں نے اعلان کیاکہ جانوروں کی بیماریوں کے تدارک کے لیے درکار فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو مزید ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو تربیت کے لیے چین بھیجنے کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان جدید تربیت حاصل کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے ،علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور و ایمرجنسی ریلیف کوآرڈی نیٹر، ٹام فلیچر نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی،وزیراعظم نے دنیا بھر میں پیچیدہ انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے رابطہ انسانی امور کی جانب سے انجام دی جانے والی گراں قدر خدمات کو سراہا۔ انہوں نے بالخصوص 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کی معاونت پر OCHA کا شکریہ ادا کیا ،تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور تمام سطحوں پر باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ملاقات کی ،وزیراعظم نے مون سون بارشوں کے دوران صوبائی حکومتوں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز میں روابط مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی ،وزیراعظم کو ملک میں مون سون بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال کی تیاری پر بریفنگ دی گئی ۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے بھی شہباز شریف سے ملاقات کی ،وزارت داخلہ سے متعلق امور پر بات چیت سمیت ملک کی مجموعی و سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سابق وزیراعلی ٰبلوچستان عبدالمالک بلوچ نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی اور صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،سارک کے سیکرٹری جنرل، محمد غلام سرور نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم سے الوداعی ملاقات کی، وزیراعظم نے علاقائی تعاون کو فروغ دینے میں سیکرٹری جنرل کی مخلصانہ خدمات اور قیادت کو سراہا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار کیرولن روڈریگز برکیٹ کے درمیان ٹیلی فون گفتگو ہوئی ، وزیراعظم نے کثیر الجہتی نظام کو مضبوط بنانے کے حوالے سے پاکستان کی ترجیح پر زور دیا اور عالمی امن و سلامتی کے لیے اقوام متحدہ کے اہم کردار کی حمایت کا اظہار کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...