علما اور اقلیتی رہنمائوں کا انتہا پسندی کے مقابلے، قومی یکجہتی پر اتفاق

علما اور اقلیتی رہنمائوں کا انتہا پسندی کے مقابلے، قومی یکجہتی پر اتفاق

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے قومی و صوبائی پیغام امن کمیٹیوں کی ملاقات،نفرت انگیز بیانیوں کا مل کر مقابلہ کرنے کا عزم ریاستی اداروں کو کمزور کرنے والی بیان بازی سے گریز کیا جائے ، علامہ طاہر اشرفی،مسلح افواج کے شہداکو خراجِ عقیدت پیش

کراچی (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے امن، مذہبی ہم آہنگی، بین المذاہب مکالمے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب کے رہنماؤں، علمائے کرام اور اقلیتی برادریوں کے نمائندوں نے پیغامِ امن کے پلیٹ فارم کے تحت انتہاپسندی، فرقہ واریت اور نفرت پر مبنی بیانیوں کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔یہ عزم وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس اور بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا جہاں وزیراعلیٰ نے قومی پیغامِ امن کمیٹی اور پیغامِ امن کمیٹی سندھ کے وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مولانا طاہر محمود اشرفی نے کی۔ شرکاء میں مفتی محمد جان نعیمی، راجیش  کمار ہرداسانی، سردار رمیش سنگھ خالصہ، پنڈت مہاراج گوسوامی گیر اور دیگر ممتاز مذہبی رہنما بھی شامل تھے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ تاریخی طور پر رواداری، بقائے باہمی اور ثقافتی تنوع کی سرزمین رہا ہے جہاں مختلف مذاہب، مکاتب فکر اور نسلی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی صدیوں پر محیط صوفیانہ روایات، وسعتِ قلب اور ہم آہنگی امن، سماجی یکجہتی اور قومی اتحاد کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔اجلاس اور مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا طاہر محمود اشرفی نے سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات جمہوری اور آئینی طریقوں سے حل کریں اور ایسی بیان بازی سے گریز کریں جو ریاستی اداروں کو کمزور کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فوجی ہمارے بھائی اور بیٹے ہیں، ہمیں اپنی مسلح افواج اور ملک کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور غازیوں پر فخر ہے۔

انہوں نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہداء کے اہل خانہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم ان افراد کی مقروض ہے جنہوں نے پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ہمارے شہداء کی قربانیوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ انہوں نے وطن کے تحفظ کے لیے سب کچھ قربان کیا ہے ۔اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے مختلف مکاتب فکر اور مذہبی برادریوں کے درمیان مکالمے ، اتحاد اور روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب اور مکاتب فکر کے افراد کے درمیان بامعنی مکالمہ بہتر افہام و تفہیم اور مثبت نتائج کا باعث بنتا ہے ۔اقلیتی برادریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے راجیش کمار ہرداسانی نے کہا کہ پاکستان کی اقلیتی برادریاں امن، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔

انہوں نے ملک کے شہداء اور ان کے اہل خانہ کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔مفتی عبد الرحیم نے مذہبی تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور اعتماد سازی کے اقدامات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیغامِ امن کا بنیادی مقصد معاشرے میں امن، ہم آہنگی، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہے ، پاکستان کا دفاع مضبوط اور باصلاحیت ہاتھوں میں ہے ۔ انہوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھی جائیں گی۔اجلاس میں ضلع انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مذہبی رہنماؤں اور مقامی امن کمیٹیوں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے وفد کو یقین دلایا کہ سندھ حکومت قومی پیغامِ امن کمیٹی اور صوبائی پیغامِ امن کمیٹی کے ساتھ مل کر امن کے پیغام، عوامی رابطوں اور احتیاطی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...