ایران امریکا جنگ نہیں، مذاکرات میں برتری چاہتے : انور اقبال
سعودی عرب پر حملے ہوتے ہیں تو پاکستان اسکے دفاع کیلئے مجبور ہو سکتا :صحافی ایران کے پاس کھونے کو بہت کم چیزیں :منصور جعفر،دنیامہر بخاری کیساتھ گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) واشنگٹن کے صحافی انور اقبال نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا دونوں کو احساس ہے کہ وہ جنگ کے ذریعے اپنے مکمل مقاصد حاصل نہیں کر سکتے ، تاہم دونوں مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کیلئے اپنی پوزیشن مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔دنیا نیوز کے پروگرام ’’دنیامہر بخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایران اور امریکا کی خواہش ہے کہ اگر جنگ کی صورتحال پیدا ہو تو ایسا نتیجہ سامنے آئے جس سے مذاکرات میں ان کی پوزیشن مستحکم ہو سکے۔ پاکستان اور قطر جیسے ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک بھی اس وقت خاموش دکھائی دے رہے ہیں، تاہم وہاں سے ملے جلے اشارے مل رہے ہیں۔
حوثیوں کی جنگ میں پاکستان نے سعودی عرب کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اگر سعودی عرب پر حملے ہوتے ہیں تو پاکستان اس کے دفاع کیلئے مجبور ہو سکتا ہے ۔ اگر ایران حملہ کر کے امریکا کو بڑا نقصان پہنچاتا ہے تو اس کے بعد یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکا جنگ کو آگے بڑھانا چاہتا ہے یا صلح کی طرف جاتا ہے ۔ اگر امریکی قیادت نقصان کے باوجود صلح چاہتی ہے تو صدر ٹرمپ ایران پر حملہ نہیں کریں گے ، بلکہ مذاکرات اور مفاہمت کی راہ اختیار کریں گے ۔ ماہر بین الاقوامی امور منصور جعفر نے کہا کہ مشرق وسطٰی میں سعودی عرب کا کردار نہایت اہم ہے اور وہ خطے کی قیادت کر رہا ہے ۔ ماضی اور حال میں کئی ایسے مواقع آئے جب سعودی عرب ایران کے خلاف سخت کارروائی کر سکتا تھا، لیکن اس نے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ایران کے پاس اس وقت کھونے کیلئے بہت کم چیزیں ہیں اور اس کی اولین ترجیح اپنی بقا ہے ۔ امریکا پہلے ہی ایران کو کافی نقصان پہنچا چکا ہے ، موجودہ بیانات اور دھمکیوں سے یہی لگتا ہے کہ امریکا ایران پر بڑا حملہ کر سکتا ہے ، جس کے جواب میں ایران اپنے ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments