نیب ترمیم میں ضمانت کا لفظ ہی نہیں، کہیں رعایت کیلئے کھڑکی کھلی نہ چھوڑی گئی ہو :جسٹس مسرت ہلالی
سپریم کورٹ نے ضمانت کے کیسز میں ایسے فیصلے دیئے جہاں پورا کیس کھول دیا:اٹارنی جنرل، اس بات سے اتفاق کرتا:جسٹس شاہد اگر سپریم کورٹ ہی ضمانت کے کیسز سنے تو قانونی بنیاد اورراستہ بتایا جائے ـ:جسٹس محمد علی، دائرہ اختیار بارے سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے نیب قانون میں ترامیم کے بعد ضمانت اور اپیلوں کے دائرہ اختیار سے متعلق اہم قانونی نکتے پر سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی۔ وکیل عباد الرحمان لودھی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف اپیل وفاقی آئینی عدالت میں دائر ہوگی، اگر ہائیکورٹ ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کر دے تو اس کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں قابل سماعت ہوگی۔ نیب قانون کی دفعہ 32 کا اطلاق ضمانت کے مقدمات پر نہیں ہوتا اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو نہیں دیا گیا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ملزم کو ضمانت دی جائے تو کیا ضمانت کی درخواست اپیل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر سپریم کورٹ ضمانت کی درخواست اپیل میں تبدیل کرے تو خود اپیلیٹ فورم بن جائے گی جبکہ نیب قانون کے مطابق اپیلیٹ فورم وفاقی آئینی عدالت ہے ۔ عدالت نے استفسار کیا ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ اپیلیٹ اتھارٹی کیسے بن سکتی ہے ، اگر سپریم کورٹ ہی ضمانت کے کیسز سنے تو اس کیلئے قانونی بنیاد اور راستہ بتایا جائے ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل وفاقی آئینی عدالت جائے گی، کیا ہم سکیم یا نئی کھڑکی کھول کر کہہ سکتے ہیں کہ ضمانت ہم سنیں گے ۔ کیا ایسے عدالتی نظائر ہیں جہاں اپیل کا فورم نہ ہونے کے باوجود سپریم کورٹ نے کیس سنا ہو، ہم آپ سے بیچ کا راستہ پوچھ رہے ہیں۔
عباد الرحمان نے کہا نیب کے مارچ 2026 ترمیمی ایکٹ میں اپیل لفظ استعمال کیا گیا ضمانت کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے نیب ترمیم ایکٹ میں ضمانت کا تو لفظ ہی نہیں،کہیں ایسا تو نہیں جہاں فیور دینی ہو وہاں کھڑکی کھلی چھوڑ دی گئی ہو۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے نیب قانون کے پیچھے پارلیمنٹ کی نیت کیا تھی؟۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کے دلائل میں موقف اختیار کیا گیا سپریم کورٹ نے ماضی میں ضمانت کے مقدمات میں ایسے فیصلے بھی دیئے جہاں پورا کیس کھول دیا گیا۔ جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیئے میں آپ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں، سپریم کورٹ ماضی میں ضمانت کیس میں پورا کیس طے کرتی رہی۔ اٹارنی جنرل نے کہا ایک مثال خواجہ سعد رفیق ضمانت کیس کی دی جاسکتی ہے ۔ جسٹس مسرت ہلالی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہیں ایسا تو نہیں نیب ترمیم آپ نے کرائی ہو، اٹارنی جنرل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اس کا مختصر ترین جواب ہے نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments