پاکستان کی سوڈان میں جاری جنگی مظالم کی شدید مذمت، جنگی جرائم پر احتساب کا مطالبہ
نیویارک: (ویب ڈیسک) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان میں جاری جنگ کے دوران ڈھائے جانے والے مظالم پر شدید پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب گل قیصر سروانی نے گزشتہ روزسوڈان کے دارفور خطے میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی تحقیقات پر غور کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان کی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف ) فوری طور پر شہریوں پر حملے بند کرے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پابندی کرے۔
گل قیصر سروانی نے دارفور میں آر ایس ایف کی جانب سے شہریوں پر حملوں، نسلی بنیادوں پر قتل، جنسی تشدد، جبری بے دخلی، غیر قانونی حراست اور شہری تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کی۔
اس سے قبل بین الاقوامی فوجداری عدالت ( آئی سی سی) کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نزہت خان نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے دفتر نے حالیہ مہینوں میں دارفور میں ہونے والے جرائم کی تحقیقات میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے گئے ہیں، جن کی مدد سے بین الاقوامی فوجداری عدالت سنگین جرائم کو براہ راست مبینہ ذمہ دار افراد سے جوڑنے میں مدد ملی ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب آئی سی سی کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، رواں ہفتے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عدالت کے خلاف مہم شروع کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کی بات کی، آئی سی سی نسل کشی، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور جارحیت کے جرم میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات چلانے کا اختیار رکھتی ہے۔
پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اکتوبر 2025 میں طویل محاصرے کے بعد سوڈان کے شہر الفاشر کا سقوط اور اس کے بعد سامنے آنے والے جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سزا سے استثنا کا ماحول تشدد کے مسلسل سلسلے کو ہوا دے رہا ہے۔
گل قیصر سروانی نے کہا کہ الجنینہ، الفاشر اور دارفور کے دیگر علاقوں میں ہونے والے جرائم میں ملوث افراد کو لازماً سزا ملنی چاہیے۔
انہوں نے العبید شہر پر آر ایس ایف کے ممکنہ حملے کی اطلاعات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ دارفور میں ماضی کے مظالم کو دیکھتے ہوئے ایسی کسی بھی کارروائی سے سنگین بین الاقوامی جرائم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے بروقت، جامع اور قابل اعتماد احتساب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف مظالم کے براہ راست ذمہ دار افراد بلکہ ایسے جرائم کی مالی معاونت، سہولت کاری یا کسی بھی شکل میں حمایت کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہئے۔
انہوں نے آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے ساتھ تعاون پر سوڈانی حکومت کو سراہتے ہوئے کہا کہ احتساب کا عمل تکمیل، قومی خودمختاری اور سوڈان کی قیادت کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوڈان کے قومی عدالتی اداروں کو مضبوط بنانا پائیدار اور مؤثر انصاف کے لیے ناگزیر ہے، پاکستانی مندوب نے سوڈان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments