سیف اللہ جھیل کشتی حادثہ:سرکاری ادارے غفلت کے مرتکب قرار
ٹورازم پولیس کے 17اہلکارچھٹی پر تھے ، ایمبولینس وقوعہ پرپہنچتے دوبار خراب ہوئی تمام کشتیوں کی رجسٹریشن،لائف جیکٹس لازمی قرار دی جائیں،انکوائری کمیٹی کی سفارش
پشاور(دنیا نیوز)سیف اللہ جھیل سوات کشتی حادثے کی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ خیبرپختونخوا حکومت کو ارسال کر دی گئی،حکومتی ذرائع کے مطابق سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ محمد ایاز کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی نے رپورٹ میں پولیس، پی ڈی ایم اے ، ریسکیو 1122، ٹورازم اتھارٹی، ٹی ایم ایز، انڈسٹریز اور دیگر متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہ کرنے پرذمہ دار قرار دیا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق سوات میں دفعہ 144 نافذ تھی اور کشتی رانی و نہانے پر پابندی تھی، تاہم پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی، پولیس نے 103 مقدمات درج کیے ، لیکن یہ مقدمات تیرنے کے خلاف درج ہوئے ، کشتی رانی کے خلاف نہیں۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے روز ٹورازم پولیس کے 37 میں سے 17 اہلکار چھٹی پر تھے ، ریسکیو 1122 کی ایمبولینس جائے وقوعہ پہنچنے اور واپسی کے دوران دو مرتبہ خراب ہوئی۔ انکوائری کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ تمام کشتیوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے ، غیر رجسٹرڈ کشتیوں کو پانی میں جانے کی اجازت نہ دی جائے اور ہر کشتی میں لائف جیکٹس کی موجودگی یقینی بنائی جائے ۔واضح رہے کہ یکم جولائی کو سوات کی سیف اللہ جھیل میں کشتی الٹنے کے حادثے میں 7 افراد ڈوب گئے تھے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments