امیر جماعتِ اسلامی سے ایرانی ،افغان سفیروں کی ملاقاتیں
امتِ مسلمہ کواتحاد،تعاون کو فروغ دیکر درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے :حافظ نعیم علاقائی امن اورمسلم دنیا کو چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا عزم
لاہور (سٹاف رپورٹر)امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے ایران کے سفیر رضا امیری مقدم اور افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جماعتِ اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی گئی۔ مرحوم کی دینی، سیاسی اور ملی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، انکی مغفرت کیلئے دعا کی گئی۔ اس موقع پر پاک ایران اور پاک افغانستان تعلقات، خطے کی صورتحال، غزہ، لبنان اور افغانستان سمیت علاقائی امن، امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ایرانی سفیر سے گفتگو میں حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا پاکستان اور ایران کو معمولی اختلافات سے بالاتر ہو کر باہمی تعاون، اقتصادی روابط کے فروغ اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے ۔ انہوں نے ایران، غزہ اور لبنان میں فوری مستقل جنگ بندی پر زور دیتے کہا جب تک امریکی جارحیت کا سلسلہ جاری رہے گا، خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ مسلم ممالک کو مشترکہ موقف اختیار کرنا چاہیے کیونکہ انکے درمیان اختلافات سے صرف دشمن قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کیخلاف ایران اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
رضا امیری مقدم نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے فروغ کیلئے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ میں مفاہمت اور تعاون خطے کے امن و سلامتی کیلئے ناگزیر ہے ۔ خطے کے مسائل کا پائیدار حل صرف مذاکرات سے ممکن ہے ۔ آبنائے ہرمز، غزہ اور لبنان میں جنگ بندی سمیت اہم علاقائی معاملات پر پیشرفت وقت کی اہم ضرورت ہے ۔افغان سفیر سے ملاقات پرحافظ نعیم الرحمٰن نے کہا مضبوط پاک افغان تعلقات خطے کے امن کیلئے ناگزیر ہیں۔ مسلم ممالک کو اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دیکر امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے ۔ افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے ۔افغان سفیر احمد شکیب نے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا دونوں ممالک میں تعاون اور مثبت روابط خطے میں پائیدار امن اور ترقی کیلئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے افغان عوام کیلئے پاکستان کے مختلف ادوار میں تعاون کو سراہا اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ روابط بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ملاقاتوں کے اختتام پر امتِ مسلمہ کے اتحاد، علاقائی امن و استحکام اور اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments