مظاہرین پر فائرنگ سے ہلاکتوں کے الزامات مسترد:آزادکشمیر حکومت
اسلام آباد (دنیا رپورٹ) حکومت آزاد جموں وکشمیر نے سکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ اور ہلاکتوں کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا اور ان دعوؤں کو غیر مصدقہ، گمراہ کن اور منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔
آزاد حکومت نے بی بی سی کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر نے فائرنگ کرکے سکیورٹی اہلکاروں کو شہید اور زخمی کیا اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگائی۔ سکیورٹی فورسز نے شہریوں کو نشانہ بنانے کے بجائے صرف قانون نافذ کرنے اور امن وامان برقرار رکھنے کیلئے کارروائی کی۔ پولیس ترجمان کے مطابق کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر کی فائرنگ سے 7 اہلکار شہید اور 143 زخمی ہوئے۔ حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے بتایا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی ماضی میں بھی پرتشدد رہی ہے ، 2024 اور 2025 کے مسلح حملوں میں بھی 4 اہلکار شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے ۔ 28 اور 29 جولائی کو گرفتار 2 افراد میں سے ایک نے ہر رینجر کے قتل پر ایک کروڑ روپے انعام کا دعویٰ کیا جس سے مبینہ فنڈنگ پر سوال اٹھے ۔ تصدیق شدہ ویڈیوز میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد کو جدید ہتھیاروں سمیت فائرنگ کرتے دکھایا گیا ہے ۔ اندھا دھند فائرنگ، سنائپرز کے استعمال یا لاشیں لواحقین کے حوالے نہ کرنے جیسے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments