بینک صارفین کا خفیہ ڈیٹا جائیداد،ناجائز استعمال پر فوجداری کارروائی ہوسکتی:ہائیکورٹ
جدید بینکاری میں کسٹمر ڈیٹا تک رسائی مالی مفادات تک رسائی کے مترادف ، غیر قانونی استعمال سنگین جرم :تحریری فیصلہ بینک ملازم عاطف کی ضمانت مسترد،سم فرنچائز مالک عثمان کی بعد از گرفتاری ضمانت 10 لاکھ کے مچلکوں کے عوض منظور
لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے بینک صارفین کے خفیہ ڈیٹا کے غیر قانونی استعمال، جعلی سمز کے اجرا اور بینک اکاؤنٹس سے رقوم منتقل کرنے کے کیس میں بینک ملازم محمد عاطف کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری مسترد جبکہ سم فرنچائز کے مالک محمد عثمان کی بعد از گرفتاری ضمانت 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔عدالت نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ بینک صارفین کا خفیہ ڈیٹا قانون کی نظر میں جائیداد ہے ۔ اگر کوئی بینک ملازم اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اس ڈیٹا کو افشا کرے یا اس سے ناجائز فائدہ اٹھائے تو اس پر فوجداری بددیانتی کی دفعات بھی لاگو ہو سکتی ہیں۔ جدید بینکاری نظام میں صارفین کے ڈیٹا تک رسائی دراصل ان کے مالی مفادات تک رسائی کے مترادف ہے ، اس لیے ایسے ڈیٹا کا غیر قانونی استعمال سنگین جرم ہے ۔ سائبر بینک فراڈ کے مقدمات میں ہر ملزم کے کردار کا تعین الگ الگ شواہد کی بنیاد پر کرنا ضروری ہے ۔
کسی ملزم کے خلاف صرف کسی نظام یا ریکارڈ تک رسائی کی بنیاد پر جرم ثابت نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے کے مطابق ملزموں کے خلاف پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے مقدمہ درج کیا۔ استغاثہ کے مطابق ملزموں نے بینک صارفین کا خفیہ ڈیٹا لیک کرکے جعلی سمز جاری کروائیں اور ان سمز کے ذریعے 6 شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے ایک کروڑ 4 لاکھ روپے منتقل کیے ۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایک منظم سائبر بینک فراڈ تھا، جس میں ہر ملزم نے الگ کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق بینک کا خفیہ کسٹمر ڈیٹا لیک کیا گیا، اس کی بنیاد پر جعلی سمز جاری ہوئیں اور بینک ملازم محمد عاطف نے خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کرکے فراڈ میں مو ثر کردار ادا کیا۔ ملزموں پر پیکا کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات بھی لاگو ہو سکتی ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ محمد عاطف کے خلاف بادی النظر میں کافی شواہد موجود ہیں، اس لیے اس مرحلے پر اسے ضمانت کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا، چنانچہ اس کی درخواست مسترد کی جاتی ہے ۔سم فرنچائز کے مالک محمد عثمان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جعلی سمز ان کے موکل نے جاری نہیں کیں، نہ ان سے کوئی ڈیوائس برآمد ہوئی اور نہ ہی جرم سے حاصل ہونے والی کوئی رقم ان کے قبضے سے ملی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments