مکہ دفاعی معاہدہ علاقائی محاذ پر ایک موثر پیش رفت
’’ایک پر حملہ سب پر حملہ‘‘جارحانہ عزائم کی حامل قوتوں کیلئے کھلا پیغام
(تجزیہ:سلمان غنی)
پاکستان ،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان علاقائی امن و امان اور خصوصاً کسی بھی ایک ملک پر حملہ کی صورت میں اجتماعی مزاحمت پر مبنی مکہ معاہدہ کو علاقائی محاذ پر ایک اہم پیش رفت کے طور پر لیاجا رہا ہے جس کے نتیجہ میں تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور جارحیت کے خدشات کم ہوں گے ۔ مذکورہ معاہدے میں وسعت اور دیگر اسلامی ممالک کو شامل کرنے سے مسلم بلاک کی راہ ہموار ہوسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین اسے مسلم ممالک کی نیٹو قرار دیتے نظر آ رہے ہیں ۔ لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ دفاعی معاہدے کے اثرات کیا ہوں گے ،بنیادی مقاصد کے حصول کیلئے کیا اقدامات بروئے کار لائیں گے اور مذکورہ معاہدہ کو امریکہ اور اس کے اتحادی کس نظر سے دیکھیں گے ۔ موجودہ صورتحال میں معاہدہ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جائے تو اس کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ پاکستان ایک نیوکلیئر پاور ،سعودی عرب کی معاشی اہمیت مسلمہ اور ترکیہ جدید جنگی اہلیت کا حامل ہے او ر اس بنیاد پر اب نہ تو کوئی ان کے خلاف جارحیت کا مرتکب ہوسکتا ہے اور نہ کسی کو اپنے معاشی حوالہ سے پریشان کن صورتحال میں مبتلا کرسکتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ یہ صرف دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ موجودہ علاقائی خطرات کے پیش نظر ایک سٹرٹیجک اعلان جنگ ہے ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ نے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کردیا جس کی وجہ سے اہم فریقین پریشان ہیں جن میں سرفہرست بھارت اور اسرائیل ہیں بھارت اس معاہدے کو اپنی علاقائی بالادستی کیلئے براہ راست چیلنج سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ معاہدے کے اعلان کے فوری بعد بھارت کی جانب سے یہ ردعمل سامنے آیا کہ ہم خطے میں اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ،بھارت اس معاہدے کو اپنے لئے خاص پیغام سمجھ رہا ہے ۔ دوسری جانب اس معاہدہ کو اسرائیل ایک خطرے کے طور پر دیکھتا ہے یہ معاہدہ علاقائی صورتحال میں امریکا کے اثرورسوخ میں کمی کوبھی ظاہر کرتا ہے اور ویسے بھی ایران جنگ کے بعد اب امریکا کو ایک غیر بھروسے مند پارٹنر کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور خلیجی ممالک اپنی سکیورٹی کے بارے میں زیادہ سنجیدہ نظر آ رہے ہیں ۔
بحرین اور اردن بھی ایسے ہی مذاکرات میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، عمان اس اتحاد کا حصہ بننے سے گریز کرسکتا ہے البتہ عام خلیجی ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ خلیجی ممالک کی سلامتی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہے جہاں تک مذکورہ معاہدہ میں پاکستان کے کردار کاتعلق ہے تو اس میں پاکستان کا کردار کلیدی اور شراکت دار ہے اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی کو معاہدہ کی اہمیت و حیثیت بارے اہم قرار دیا جا رہا ہے ، مذکورہ معاہدہ کے حوالہ سے کہا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ دیرینہ تاریخی تعلقات اسلامی یکجہتی اور اور سٹرٹیجک مفادات کا مظہر ہے جس میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے علاقائی کشیدگی خاص طور پر امریکا، ایران جنگ ختم کرانے میں بھرپور سفارتی کردار اداکیا یہی وجہ ہے کہ مغرب اور خلیج میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں پر خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments