جیکب آباد:سیم نالہ منصوبے پرسندھ اور بلوچستان آمنے سامنے

جیکب آباد:سیم نالہ منصوبے پرسندھ اور بلوچستان آمنے سامنے

جیکب آباد (نمائندہ دنیا)جیکب آباد میں سندھ حکومت کی جانب سے تعمیر سیم نالہ منصوبے پر بلوچستان حکومت نے شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے متنازع قرار دیدیا۔

اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر شہزاد احمد ساہی کی زیر صدارت سندھ اور بلوچستان کے آبپاشی حکام کا مشترکہ اجلاس ہوا، تاہم دونوں صوبوں کے حکام اپنے موقف پر قائم رہے اور اجلاس کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا، ذرائع کے مطابق بلوچستان کے حکام نے موقف اختیار کیا کہ جیکب آباد میں تعمیر سیم نالہ بلوچستان کے اضلاع صحبت پور، جعفرآباد، اور اوستہ محمد کیلئے شدید خطرہ بن سکتا ہے اور اگر اس نالے کا پانی بلوچستان کی حیر دین ڈرین میں چھوڑا گیا تو تین اضلاع زیر آب آنے کا خدشہ ہے ، بلوچستان کے حکام کا کہنا تھا کہ حیر دین ڈرین کی نکاسی کی گنجائش تقریباً 1100 کیوسک ہے جبکہ اس وقت بھی اس میں تقریباً 3000 کیوسک پانی گزر رہا ہے جس کے باعث ڈرین کو نقصان پہنچ رہا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اگر جیکب آباد اور کندھ کوٹ کشمور کے برساتی اور زرعی نکاسی کا پانی بھی اسی ڈرین میں شامل کیا گیا تو صورتحال مزید سنگین ہوجائیگی اس لیے وہ ایک کیوسک پانی بھی حیر دین ڈرین میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ، دوسری جانب سندھ کے حکام نے اجلاس میں موقف اختیار کیا کہ ضلع جیکب آباد کی سرحد پر واقع حیر دین ڈرین ہی نکاسی آب کا واحد راستہ ہے ، اس لیے سیم نالے کا پانی اسی ڈرین میں چھوڑنے کی اجازت دی جائے ، اجلاس کے دوران دونوں صوبوں کے حکام کے درمیان اس معاملے پر سخت بحث بھی ہوئی تاہم کسی قسم کی لچک سامنے نہ آنے کے باعث اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا، اجلاس کے بعد تینوں ڈپٹی کمشنرز نے میڈیا سے گفتگو کرنے سے گریز کیا، بعد ازاں بلوچستان سرکل پٹ فیڈرکینال کے سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر کھوسو نے مطالبہ کیا کہ متنازع سیم نالہ منصوبے پر کام فوری طور پر بند کیا جائے کیونکہ یہ بین الصوبائی معاملہ ہے اور اس سے دونوں صوبوں کے درمیان اختلافات بڑھ سکتے ہیں، انہوں نے سندھ حکومت سے منصوبے پر نظرثانی کا بھی مطالبہ کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...